Type Here to Get Search Results !

10th urdu 12 جگر صاحب

0
جگر صاحب
سوالوں کے جواب لکھیے :
  • 1. خاکہ نگار پہلی مرتبہ جگر صاحب سے کس طرح متعارف ہوا ؟
    خاکہ نگار پہلی مرتبہ لکھنو میں شوکت تھانوی صاحب کے گھر جگر صاحب سے متعارف ہوا[cite: 12]۔ خاکہ نگار سویا ہوا تھا جب اس نے جگر صاحب کے ترنم سے اشعار سنے جس سے اس کی نیند غائب ہو گئی[cite: 12]۔ شوکت صاحب نے اسے آواز دے کر جگر صاحب کے پاس بلایا اور پوچھا کہ کیا وہ انہیں جانتا ہے[cite: 12]۔ خاکہ نگار نے کہا کہ انہیں تو سب جانتے ہیں لیکن یہ سب کو نہیں جانتے، اور پھر اس طرح اس کا جگر صاحب سے باقاعدہ تعارف ہوا[cite: 12]۔
  • 2. لکھنو کی سرزمین کے متعلق خاکہ نگار نے کیا بات کہی ہے؟
    خاکہ نگار نے لکھنو کی سرزمین کے متعلق کہا ہے کہ وہاں قدم قدم پر شاعر ملتے ہیں[cite: 12]۔ بعض دانشوروں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ وہاں کے لوگ سوتے اور جاگتے میں شعر ہی کہتے اور سنتے ہیں[cite: 12]۔
  • 3. خاکہ نگار نے کیوں کہا ہے کہ جگر صاحب کی باتیں غزل کے شعر ہوتی ہیں؟
    خاکہ نگار نے یہ اس لیے کہا کیونکہ جس طرح غزل کا ہر شعر اپنے مفہوم کے اعتبار سے علاحدہ علاحدہ حیثیت اور گہرائی رکھتا ہے، بالکل اسی طرح جگر صاحب کی باتوں کا بھی یہی مسئلہ تھا[cite: 12]۔ وہ اپنی باتوں میں اس قدر ڈوب جاتے تھے اور فلسفیانہ انداز میں گفتگو کرتے تھے کہ ان کی باتیں بھی غزل کے اشعار کی طرح گہری اور پرمغز معلوم ہوتی تھیں[cite: 12]۔
  • 4. جگر صاحب کی شخصیت کے کس پہلو سے آپ متاثر ہوئے ، بیان کیجیے۔
    میں جگر صاحب کی بے پناہ انسانیت، درگزر اور وضع داری سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ بالخصوص وہ واقعہ جہاں انہیں معلوم تھا کہ ان کے ساتھ تانگے میں بیٹھے شخص نے ان کا بٹوہ (جس میں ہزار بارہ سو روپے تھے) چرا لیا ہے، لیکن انہوں نے اس شخص کو شرمندگی اور پشیمانی سے بچانے کے لیے خاموشی اختیار کر لی[cite: 12]۔ ایسی اعلیٰ ظرفی اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا آج کے دور میں نایاب ہے۔

కామెంట్‌ను పోస్ట్ చేయండి

0 కామెంట్‌లు

Top Post Ad

Bottom Post Ad

Show ad in Posts/Pages