سوالوں کے جواب لکھیے :
-
1. اماں جان کو دوشالے سے لگاؤ کیوں تھا؟
اماں جان کو دوشالے سے بے حد جذباتی لگاؤ تھا کیونکہ یہ ان کے دادا کا تاریخی دوشالہ تھا[cite: 9]۔ وہ دوشالہ ان کے لیے ایک گم شدہ جزیرے کی طرح تھا جس سے ان کا بچپن اور پرانی یادیں وابستہ تھیں[cite: 9]۔ اگر یہ دوشالہ کھو جاتا تو ان کے بچپن کی یادیں اور زندگی کا واحد سہارا بھی چھن جاتا[cite: 9]۔
-
2. اماں جان دوشالے کی حفاظت کے لیے کیا کیا تدبیریں کرتی تھیں؟
اماں جان نے دوشالے کی حفاظت کے لیے اسے ایک صندوق میں سات گٹھریوں کے نیچے چھپا رکھا تھا[cite: 9]۔ انھوں نے اسے پرانے ازار بند سے لپیٹ کر پکے ٹانکے لگا دیے تھے تاکہ کوئی اسے آسانی سے نہ کھول سکے[cite: 9]۔ اس کے اوپر انھوں نے افیون کی ڈبیہ، دواؤں کی شیشیاں اور دیگر سامان اس احتیاط سے جما رکھا تھا کہ سوائے گرد کے کوئی چیز اپنی جگہ سے نہ ہلے، اور وہ رات رات بھر جاگ کر اس صندوق کی حفاظت کرتی تھیں[cite: 9]۔
-
3. ان کی اندھیری کوٹھری میں وہ ہزار کینڈل پاور کا بلب تھا جس کی روشنی میں کوئی راہ کٹھن نہ لگتی تھی، اس جملے کی وضاحت کیجیے۔
اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اماں جان کی زندگی بڑھاپے، تنہائی اور مایوسی کے اندھیرے میں گزر رہی تھی، لیکن دادا کا وہ تاریخی دوشالہ ان کے لیے روشنی، امید اور تسلی کا بہت بڑا ذریعہ تھا[cite: 9]۔ اس دوشالے اور اس سے جڑی یادوں کے سہارے انھیں اپنی اندھیری اور تنہا زندگی کا مشکل سفر بھی آسان معلوم ہوتا تھا[cite: 9]۔
-
4. تو قیر کا خط صحیح الفاظ کے ساتھ لکھیے ۔
دادی جان۔ السلام علیکم اور قدم بوسی۔
یہاں سب خیریت ہے اور آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے۔ دیگر احوال یہ ہے کہ جناب لکڑ دادا صاحب کا دوشالہ کہیں نہ ملا۔ میں نے اور جمالو نے سارا کمرہ چھان مارا۔ براہِ کرم واپسی ڈاک مطلع فرمائیے کہ آپ دوشالہ کہاں رکھ گئی ہیں۔
جمالو آپ کو سلام لکھوا رہی ہے۔ فقط
آپ کا خادم
توقیر مرزا متعلم جماعت پنجم (الف)
بقلم خود[cite: 9]