لفظ و معنی :[cite: 4]
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ہستی[cite: 4] | وجود، زندگی[cite: 4] |
| کال[cite: 4] | قحط کمی[cite: 4] |
| سہل[cite: 4] | آسان[cite: 4] |
سوالوں کے جواب لکھیے :[cite: 4]
-
1. شاعر نے دل کو نرالی بستی کیوں کہا ہے؟[cite: 4]
شاعر نے دل کو نرالی بستی اس لیے کہا ہے کیونکہ دنیا کی دوسری بستیاں اجڑنے کے بعد دوبارہ بس سکتی ہیں، لیکن دل ایک ایسی بستی ہے جو ایک بار اجڑ جائے تو پھر کبھی نہیں بستا۔
-
2. ہستی کی کیا ہستی ہے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟[cite: 4]
اس سے شاعر کی مراد یہ ہے کہ انسانی زندگی (ہستی) کی کوئی حقیقت یا اوقات (ہستی) نہیں ہے۔ یہ زندگی فانی اور بے ثبات ہے، اس لیے شاعر موت کو بھی مفت میں لینے کو تیار نہیں۔
-
3. بستی بسنا کھیل نہیں، بستے بستے بستی ہے ، اس مصرعے میں پہلے لفظ بستی اور دوسرے لفظ بستی کے فرق کو واضح کیجیے۔[cite: 4]
اس مصرعے میں پہلے لفظ "بستی" کا مطلب 'آبادی یا شہر' (اسم) ہے، جبکہ دوسرے لفظ "بستی" کا مطلب 'آباد ہونا یا بسنا' (فعل) ہے۔
عملی کام :[cite: 4]
-
1. اس غزل کے قافیوں کی نشاندہی کیجیے۔[cite: 4]
اس غزل کے قافیے درج ذیل ہیں: سستی، ہستی، بستی، برستی، ترستی۔
-
2. ذیل کے الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے۔ جگ ، بستی ، گھٹا ، سہل ، لہو ، کال[cite: 4]
جگ: تیرے بغیر یہ سارا جگ سونا لگتا ہے۔
بستی: وہ ایک خوبصورت سی بستی میں رہتا ہے۔
گھٹا: آسمان پر کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے۔
سہل: امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنا کوئی سہل کام نہیں۔
لہو: شہیدوں کا لہو کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
کال: بارش نہ ہونے کی وجہ سے گاؤں میں کال پڑ گیا ہے۔