لفظ و معنی :[cite: 6]
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ہوں[cite: 6] | ایسی خواہش جو ختم ہونے میں نہ آئے ، سب کچھ پالینے کی خواہش[cite: 6] |
| عبث[cite: 6] | بے کار، فضول[cite: 6] |
| درشن[cite: 6] | دیدار، جلوه[cite: 6] |
| شاه و گدا[cite: 6] | بادشاہ اور فقیر[cite: 6] |
| پستی[cite: 6] | گراوٹ، نچلی سطح[cite: 6] |
| زیبا[cite: 6] | خوشنما ، خوبصورت[cite: 6] |
| لغزش[cite: 6] | غلطی ، بھول ، خطا ، لڑکھڑاہٹ[cite: 6] |
سوالوں کے جواب لکھیے :[cite: 6]
-
1. مطلع میں ادب اور ہوس کے الفاظ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟[cite: 6]
مطلع میں 'ادب' سے مراد محبت کا احترام، لحاظ اور رکھ رکھاؤ ہے، جبکہ 'ہوس' سے مراد بے قابو نفسانی خواہشات اور لالچ ہے۔
-
2. شاعر کو کس فریب نے مارا؟ بیان کیجیے۔[cite: 6]
شاعر کو اس فریب نے مارا کہ "آنے والا کل ابھی کتنی دور ہے"۔ اسی دھوکے اور آج کل کرنے میں مبتلا رہ کر اس نے اپنے بہت سے قیمتی دن بے کار گنوا دیے۔
-
3. کسی کے روپ میں تم بھی تو اپنے درشن دو شاعر یہ کس سے کہہ رہا ہے؟[cite: 6]
شاعر یہ بات اپنے محبوبِ حقیقی (اللہ تعالیٰ) سے کہہ رہا ہے کہ اس دنیا میں بادشاہ ہو یا فقیر، سب میں تیرے ہی جلوے نظر آتے ہیں، اس لیے تو بھی کسی صورت میں اپنا دیدار کرا دے۔
عملی کام :[cite: 6]
-
1. بلندی اور پستی متضاد الفاظ ہیں۔ اس غزل سے ایسے اور متضاد الفاظ تلاش کر کے لکھیے ۔[cite: 6]
اس غزل میں استعمال ہونے والے دیگر متضاد الفاظ درج ذیل ہیں:
• آج اور کل
• شاہ اور گدا -
2. پہاڑ کاٹنا ایک محاورہ ہے جس کے معنی ہے، مشکل کام انجام دینا ۔ آپ پانچ محاورے یاد کر کے لکھیے۔[cite: 6]
پانچ محاورے اور ان کے معنی درج ذیل ہیں:
1. آسمان سے باتیں کرنا: بہت اونچا ہونا یا مغرور ہونا۔
2. اپنا اُلّو سیدھا کرنا: اپنا مطلب نکالنا۔
3. آپے سے باہر ہونا: غصے میں بے قابو ہو جانا۔
4. باغ باغ ہونا: بہت زیادہ خوش ہونا۔
5. جان میں جان آنا: تسلی یا سکون ملنا۔