لفظ و معنی :[cite: 8]
| لفظ | معنی |
|---|---|
| زوال[cite: 8] | پستی ، گراوٹ[cite: 8] |
| تصویر خانه[cite: 8] | نگارخانه، پکچر گیلری[cite: 8] |
| شب در از[cite: 8] | لمبی رات[cite: 8] |
| عدم[cite: 8] | نہ ہونا[cite: 8] |
| تغیر[cite: 8] | تبدیلی[cite: 8] |
| نمود[cite: 8] | علامت ، نشان ، ظہور[cite: 8] |
| اختر سحر[cite: 8] | صبح کا ستارا[cite: 8] |
| زمین کے محرم[cite: 8] | زمین کے رازدار[cite: 8] |
| سوگوار[cite: 8] | غمگین ، افسرده[cite: 8] |
سوالوں کے جواب لکھیے :[cite: 8]
-
1. حسن نے خدا سے کیا سوال کیا ہے؟[cite: 8]
حسن نے خدا سے یہ سوال کیا ہے کہ اے خدا! تو نے مجھے دنیا میں لازوال اور ہمیشہ رہنے والا کیوں نہیں بنایا؟
-
2. خدا اور حسن کے درمیان گفتگو کی خبر زمین کے باسیوں کو کس طرح ہوئی ؟[cite: 8]
خدا اور حسن کی گفتگو قریب ہی موجود چاند (قمر) نے سنی۔ چاند سے یہ بات آسمان پر مشہور ہوئی اور صبح کے ستارے (اخترِ سحر) نے سن لی۔ صبح کے ستارے نے یہ بات شبنم کو بتائی اور شبنم نے یہ راز زمین والوں (پھول اور کلی) تک پہنچا دیا۔
-
3. پھول، کلی ، موسم بہار اور شباب کو شاعر نے سوگوار کیوں کہا ہے؟[cite: 8]
شاعر نے انہیں سوگوار اس لیے کہا ہے کیونکہ انہیں یہ حقیقت معلوم ہو گئی ہے کہ ان کا حسن، جوانی اور تازگی عارضی ہے۔ وہ فانی ہیں اور ایک دن ان پر زوال آنا طے ہے، اسی احساس نے انہیں غمگین کر دیا ہے۔
-
4. نظم کے آخری شعر کی تشریح کیجیے۔[cite: 8]
آخری شعر کی تشریح: "چمن سے روتا ہوا موسم بہار گیا / شباب سیر کو آیا تھا سوگوار گیا"
اس شعر میں علامہ اقبال فطرت کے قانون کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ جب موسمِ بہار کو اور جوانی (شباب) کو یہ بات معلوم ہوئی کہ ان کا وجود بھی چند دن کا ہے اور انہیں بھی زوال آنا ہے، تو وہ بہت غمگین ہوئے۔ بہار جو چمن کو سجانے آئی تھی، روتے ہوئے رخصت ہو گئی، اور جوانی جو دنیا کی سیر کرنے آئی تھی، وہ بھی افسردہ ہو کر چلی گئی۔ یعنی دنیا کی ہر خوبصورت اور جوان چیز کا انجام زوال اور فنا ہے۔
عملی کام :[cite: 8]
-
1. قمر کے معنی ہیں چاند اردو میں چاند کے لیے اور بھی الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً ہلال ، بدر، ماہ ، مہہ اور مہتاب ۔ اسی طرح سورج کے لیے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں وہ لکھیے ۔[cite: 8]
اردو میں سورج کے لیے درج ذیل الفاظ استعمال ہوتے ہیں:
• آفتاب
• خورشید
• شمس
• مہر
• نیر