| لفظ | معنی |
|---|---|
| شورش | شور وغل ، اتھل پتھل |
| سکوت | خاموشی |
| تقریر | بیان، بات |
| عزلت | تنہائی ، گوشه |
| سرود | گانا نغمہ |
| جہاں نما | جس میں یا جس سے تمام دنیا نظر آئے |
| جلوت | محفل ، لوگوں کی موجودگی |
| خلوت | تنہائی |
| دل فریب | دل کو لبھانے والا من موہن |
| قبا | پوشاک |
| ہم نوا | ہم آواز |
| روزن | سوراخ ، روشن دان |
| سحر نما | صبح کا دیدار کرانے والا |
| ناله | فریاد، رونے کی آواز |
| درا | قافلے کے روانہ ہونے سے پہلے بجنے والا گھنٹہ ، جرس |
کسی شعر یا شعر کے کسی مصرعے میں دو متضاد الفاظ کے استعمال کو صنعت تضاد کہتے ہیں۔ اس نظم میں کئی اشعار ایسے ہیں جن میں دو متضاد الفاظ آئے ہیں۔ جیسے:
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
ہاتھ کا سرہانا، سبزہ کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت ، خلوت میں وہ ادا ہو
جہاں نما ایک مرکب ہے جو جہاں بمعنی دنیا اور نما، بمعنی دکھانے والا ، سے مل کر بنا ہے۔ جب دو مختلف الفاظ ایک ساتھ مل کر ایک ترکیب بناتے ہیں تو اسے مرکب کہتے ہیں۔
شعر میں کسی تاریخی واقعے ، مشہور شخصیت یا شے کا ذکر کیا جائے تو اسے صنعت تلمیح کہتے ہیں۔ "ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو" اس مصرعے میں صنعت تلمیح کا استعمال کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ قدیم ایرانی بادشاہ جمشید کے پاس ایک پیالہ تھا جس میں وہ پوری دنیا کو دیکھ لیتا تھا۔ یہاں کلی کو استعارتاً ساغر کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور ساغر کے لیے جہاں نما کی تلمیح سے مدد لی گئی ہے۔
-
1. شاعر نے تنہائی کی کیا خوبیاں بیان کی ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
شاعر نے تنہائی کی یہ خوبی بیان کی ہے کہ اس میں دنیا کے شور و غل اور ہنگاموں سے نجات مل جاتی ہے۔ انسان کو دلی سکون حاصل ہوتا ہے اور وہ دنیا کے غموں سے آزاد ہو کر فطرت کے پرسکون ماحول میں وقت گزار سکتا ہے۔
-
2. پہاڑ کے دامن میں وہ کون سی چیزیں ہیں جن میں شاعر کو خاص دلچسپی ہے؟
پہاڑ کے دامن میں شاعر کو سبزے کا بچھونا، چشمے کا شور، چڑیوں کے چہچہے، ندی کا صاف پانی، جھاڑیوں میں چمکتا پانی، پھول کی ٹہنی اور رات کے وقت جلنے والا ٹوٹا ہوا دیا جیسی فطری چیزوں میں خاص دلچسپی ہے۔
-
3. شاعر کی آرزو کے مطابق رات کے مسافروں کی اُمید کیا ہوگی ؟
شاعر کی آرزو ہے کہ رات کے اندھیرے میں جب مسافر تھک جائیں تو اس کی جھونپڑی میں جلنے والا ٹوٹا ہوا دیا ان کے لیے اُمید کی کرن بنے اور بجلی کی چمک میں انہیں اس کی کٹیا نظر آئے۔
-
4. آخری شعر میں شاعر کیا بات کہنا چاہتا ہے؟
آخری شعر میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس کی آہ و زاری اور درد بھرے نالے اتنے پر اثر ہوں کہ جو لوگ غفلت کی نیند سو رہے ہیں وہ جاگ جائیں، اور ان کے دلوں میں احساس اور ہمدردی پیدا ہو جائے۔
-
1. نظم ایک آرزو بلند آواز سے پڑھیے۔
(طلبہ اس نظم کو بلند آواز میں ترنم کے ساتھ خود پڑھیں۔)
-
2. اقبال کے مجموعے بانگ درا میں کئی نظمیں بچوں کے لیے ہیں۔ آپ ان نظموں کو تلاش کر کے پڑھیے۔
(طلبہ بانگ درا سے بچوں کی نظمیں جیسے 'بچے کی دعا'، 'ہمدردی'، 'ماں کا خواب' اور 'مکڑا اور مکھی' وغیرہ تلاش کر کے پڑھیں۔)
-
3. درج ذیل اشعار کا مفہوم اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
پچھلے پہر کی کوئل، وہ صبح کی موذن
میں اس کا ہم نوا ہوں، وہ میری ہم نوا ہومفہوم: شاعر کہتا ہے کہ صبح کے وقت کوئل کی میٹھی آواز اذان کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں اس کی آواز میں آواز ملا کر گاؤں اور ہم دونوں مل کر فطرت کے گیت گائیں۔
کانوں پر ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساں !
روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہومفہوم: شاعر کہتا ہے کہ مجھے صبح ہونے کی خبر دینے کے لیے مندر یا مسجد کے احسان کی ضرورت نہیں ہے۔ میری جھونپڑی کا سوراخ (روشن دان) ہی مجھے صبح کا منظر دکھانے کے لیے کافی ہے۔
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کو
سرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہومفہوم: جب شام کے وقت سورج غروب ہو رہا ہو اور اس کی سرخ اور سنہری کرنیں پھولوں پر پڑیں تو ایسا خوبصورت منظر ہو جیسے شام کی دلہن نے مہندی لگائی ہو اور پھولوں نے سرخ و سنہری لباس پہنا ہو۔ -
4. اس نظم سے ایسے دو اشعار لکھیے جن میں تشبیہہ کا استعمال ہوا ہے۔
1. لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں
چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو
2. پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو -
5. درج ذیل الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے :
جہاں نما، سحر نما، ہم نوا، دل فریب ، جلوت ، خلوتجہاں نما: آج کے جدید دور میں انٹرنیٹ ایک جہاں نما کی حیثیت رکھتا ہے۔
سحر نما: پہاڑوں کے بیچ طلوع ہوتا ہوا سورج ایک سحر نما منظر پیش کرتا ہے۔
ہم نوا: سچے دوستوں کو ہر مشکل اور خوشی کے وقت میں ایک دوسرے کا ہم نوا ہونا چاہیے۔
دل فریب: وادیِ کشمیر کے سرسبز اور شاداب پہاڑوں کا نظارہ بہت دل فریب ہے۔
جلوت: انسان بعض اوقات جلوت یعنی محفل کی چہل پہل سے گھبرا کر سکون کی تلاش کرتا ہے۔
خلوت: بزرگ اور صوفیائے کرام اکثر خلوت میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔