مشق - لفظ و معنی
| لفظ | معنی |
|---|---|
| تان | سریلی آواز[cite: 3] |
| رام دہائی | اللہ کی پناہ[cite: 3] |
| پیتم | محبوب ، شوہر[cite: 3] |
| در پہ نہ جانا | کسی اور کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا[cite: 3] |
غور کرنے کی بات
- اس نظم میں ایک سیدھی سادی، ہندوستانی لڑکی کے جذبات واحساسات کی ترجمانی کی گئی ہے۔ جو ایک نئی زندگی کے ارمان لیے ہوئے ہے جس میں وہ اپنا نیا گھر بسانے کا خواب دیکھتی ہے اور گنگناتی ہے[cite: 3]۔
- یہ گیت سادہ زبان میں لکھا گیا ہے جو پُر تاثیر بھی ہے[cite: 3]۔
سوالوں کے جواب لکھیے
-
1. اس گیت میں لڑکی کس نئی دنیا میں قدم رکھ رہی ہے؟[cite: 3]
اس گیت میں لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال کی شکل میں ایک نئی زندگی اور نئی دنیا میں قدم رکھ رہی ہے جہاں کے لوگ، دن اور رات سب اس کے لیے نئے ہیں۔
-
2. اب سکھ نے بدلا بھیس نیا سے کیا مراد ہے؟[cite: 3]
اس سے مراد یہ ہے کہ شادی کے بعد خوشیوں نے لڑکی کے لیے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ نئی زندگی اور نئے رشتے اس کے لیے ایک مختلف قسم کے سکھ اور خوشی کا باعث بن رہے ہیں۔
-
3. اپنا محل بنانا اور دوسرے کے در پہ نہ جانا کے کیا معنی ہیں؟[cite: 3]
اس کے معنی یہ ہیں کہ لڑکی اب اپنا نیا گھر (سسرال) خود بسائے گی اور خود مختار ہوگی[cite: 3]۔ اسے اپنی ضرورتوں یا خوشیوں کے لیے کسی اور کے دروازے پر نہیں جانا پڑے گا یعنی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا[cite: 3]۔
عملی کام
-
1. اس گیت کو بلند آواز سے پڑھیے۔[cite: 3]
(طلبہ اس گیت کو بلند آواز میں ترنم کے ساتھ خود پڑھیں۔)
-
2. اس گیت کے پہلے بند کو خوش خط لکھیے اور اس کا مطلب بھی لکھیے ۔[cite: 3]
پہلا بند:
اب سکھ کی تان سنائی دی
اک دنیا نئی دکھائی دی
اب سکھ نے بدلا بھیس نیا
اب دیکھیں گے ہم دیس نیا
جب دل نے رام دہائی دی
اک دنیا نئی دکھائی دی
مطلب: اس بند میں لڑکی اپنے دل کی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اب اسے سکھ اور خوشی کے گیت سنائی دے رہے ہیں اور اسے ایک نئی دنیا نظر آ رہی ہے۔ خوشیوں نے ایک نیا روپ دھار لیا ہے اور اب وہ ایک نئے دیس (سسرال) کو دیکھے گی۔ جب اس کے دل نے خدا کی پناہ مانگی اور اسے یاد کیا تو اسے یہ نئی اور خوبصورت دنیا دکھائی دی۔ -
3. گیت کو زبانی یاد کیجیے۔[cite: 3]
(طلبہ اس گیت کو اچھی طرح زبانی یاد کریں۔)