سوچیے اور بولیے (صفحہ 84)
-
1. تصویر میں آپ کو کیا نظر آ رہا ہے؟
تصویر میں ایک فقیر بھیک مانگ رہا ہے، ایک معذور شخص ریڑھی پر بیٹھا ہے اور ایک اسکول کا بچہ حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہا ہے۔
-
2. صحت مند آدمی اور معذور آدمی کیا کر رہے ہیں؟
صحت مند آدمی فقیر کی شکل میں ہاتھ پھیلائے بھیک مانگ رہا ہے اور معذور آدمی ریڑھی پر بیٹھ کر اپنے کام میں مصروف یا بیٹھا ہوا ہے۔
-
3. لڑکا ان لوگوں کو حیرت سے کیوں دیکھ رہا ہے؟
لڑکا ان کی حالت، معذوری اور معاشرے کے حالات کو دیکھ کر حیرت اور تجسس میں ڈوبا ہوا ہے۔
یہ کیجیے - پڑھنا، سمجھنا (صفحہ 88-90)
I. مختصر جوابات لکھیے۔
-
1. سبق میں کس شہر کی بات ہوئی ہے اور بھکاریوں کا اڈا کہاں تھا؟
سبق میں لکھنؤ شہر کی بات ہوئی ہے اور بھکاریوں کا اڈا گورنمنٹ جوبلی کالج اور ریلوے اسٹیشن کے درمیان والے ریلوے پل کے نیچے تھا۔
-
2. فقیر کس کو بے وقوف بنا رہا تھا؟
فقیر دیمھ نامی سیدھے سادھے لڑکے اور دوسرے بھولی بھالی عوام کو بے وقوف بنا رہا تھا۔
-
3. بالائی والے فقیر کی لاش کے چھتیچوں (تلاشی) سے پولیس کو کیا ملا؟
پولیس کو سو روپے کے آٹھ بڑے بڑے نوٹ اور پچاس روپے کے چھوٹے نوٹ اور پیسے سے بندھی ہوئی پوٹلی ملی۔
II. A) عبارت پڑھ کر دیے گئے سوالات کے جواب لکھیے۔
-
1. حاتم طائی کس قسم کا آدمی تھا؟
حاتم طائی سخاوت کے ساتھ ساتھ بہت رحم دل بھی تھا۔
-
2. حاتم طائی کی سخاوت اور مقبولیت سے نوفل بادشاہ کیوں پریشان تھا؟
نوفل بادشاہ اس بات سے پریشان تھا کہ اگر حاتم کی مقبولیت یونہی بڑھتی رہی تو لوگ اسی کی طرف جائیں گے اور کوئی بادشاہ کی طرف نہیں آئے گا۔
-
3. مہمان کے روپ میں حاتم کے محل کس کو روانہ کیا گیا؟
ایک بہادر اور طاقتور سپاہی کو مہمان کے روپ میں بھیجا گیا۔
-
4. مہمان سپاہی نے حاتم کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
اس نے گہری نیند سوتے ہوئے حاتم پر خنجر سے پوری طاقت سے وار کیا، لیکن حاتم کے کروٹ لینے پر نشانہ चूक گیا اور وہ حاتم کے اوپر گر پڑا۔
-
5. حاتم طائی اپنے مہمان سپاہی سے کیا پوچھا؟
اس نے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ کیا میری مہمان نوازی میں کوئی کمی رہ گئی تھی؟
II. B) نظم غور سے پڑھیے اور پانچ سوال تیار کیجیے۔
-
1. شاخ پر کون اداس بیٹھا تھا؟
بلبل اداس بیٹھا تھا۔
-
2. رات کے وقت جنگل یا ماحول پر کیا چھا گیا تھا؟
اندھیرا چھا گیا تھا۔
-
3. بلبل کی آہ و زاری سن کر کون پاس آیا؟
جونگنو (بجنو) پاس آیا۔
-
4. جونگنو کے پاس کیا چیز تھی جو اللہ نے دی تھی؟
مشعل کی طرح چمکنے والی روشنی۔
-
5. دنیا میں کون سے لوگ اچھے کہلاتے ہیں؟
جو دوسروں کے کام آتے ہیں۔
II. C) دی گئی رباعی پڑھیے اور اس کی تشریح کیجیے۔
-
تشریح: اکبر آبادی کی اس رباعی میں بتایا گیا ہے کہ یہ دنیا انسان کو غافل اور برباد کر دیتی ہے اور اس کے برے افکار سے طبیعت نا شاد رہتی ہے۔ دل کو دنیا کے فتنوں سے بچانے والی اور اس کی حفاظت کرنے والی صرف دو ہی چیزیں ہیں: ایک آخرت (عقبٰی) کا تصور اور دوسری اللہ کی یاد۔
از خود لکھنا (صفحہ 90)
III. A) دیے گئے سوالات کے جواب چار یا پانچ جملوں میں لکھیے۔
-
1. فقیر کی حقیقت دیمح کو بتانے کے لیے اس کے دوستوں نے کون سی ترکیب اختیار کی؟
دیمھ کے دوستوں نے طے کیا کہ اس مکار فقیر کا بھانڈا پھوڑا جائے۔ انہوں نے اس پر کڑی نظر رکھی، اس کے روزانہ کے کاموں کا مشاہدہ کیا، اور شام کے وقت جب بالائی والا فقیر شیرمال اور بالائی لے کر آیا تو دیمھ کو خود اس کی حقیقت سے روبرو کرایا۔
-
2. دیمھ نے بھکاری کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا؟
دیمھ پہلے تو اس فقیر کو بڑا اللہ والا سمجھتا تھا اور اپنی ماں سے ضد کر کے اس کے لیے مٹھائی، پھل، شیرمال اور پلاؤ لاتا تھا۔ لیکن جب اس کی حقیقت کھلی تو وہ غصے میں بھر گیا اور اس سے بازپرس کرنے لگا۔
-
3. آپ کیسی لوگوں کی مدد کرنا چاہیں گے؟
ہم ایسے غریب، محتاج، معذور اور مستحق لوگوں کی مدد کرنا چاہیں گے جو واقعی محنت کش ہوں یا بے یار و مددگار ہوں، اور جو تندورست ہو کر بھی بھیک مانگنے کو پیشہ بنا لیتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی کریں گے۔
III. B) سوالات کے جواب آٹھ یا دس جملوں میں لکھیے۔
-
1. "بالائی والا فقیر" کہانی کا کوئی ایک منظر اپنے الفاظ میں لکھیے۔
کہانی کا ایک دلچسپ منظر وہ ہے جب شام کے وقت دیمھ اور اس کے دوست پل کے نیچے چھپ کر یا قریب کھڑے ہو کر فقیر کا انتظار کرتے ہیں۔ اتنے میں بالائی والا شخص وہاں آتا ہے اور فقیر کو چار بڑی بڑی شیرمال اور پاؤ بھر بالائی پیش کرتا ہے، اور دن بھر کے جمع کیے ہوئے پیسے لے جاتا ہے۔ جب دیمھ اس سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ روزانہ اتنی بالائی کھاتا ہے، تو فقیر بے باکی سے جواب دیتا ہے کہ اگر وہ روزانہ بالائی نہ کھائے تو اس کی آواز میں وہ رگ اور گرج کیسے پیدا ہوگی جس سے لوگ اسے ایک پیسہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ منظر معاشرے کے ایک مکار کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔
-
2. سبق کی مناسبت سے دیمھ کی خوبیوں کی ستائش کرتے ہوئے اپنے دوست کو خط لکھیے۔
پیارے دوست، سلام مسنون! امید ہے آپ بخریت ہوں گے۔ آج میں آپ کو اپنے نصاب کے ایک سبق کے کردار دیمھ کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ دیمھ ایک بہت ہی معصوم، سیدھا سادھا اور ہمدرد لڑکا تھا۔ وہ غریبوں اور فقیروں کی مدد کرنے کا جذبہ رکھتا تھا، اسی لیے وہ اس مکار فقیر کی خدمت کرتا تھا۔ حالانکہ وہ دھوکہ کھا گیا تھا، لیکن اس کی نیت صاف تھی اور وہ نیکی کے جذبے سے سرشار تھا۔ ایسے بچے معاشرے کا سرمایا ہوتے ہیں جو انسانیت کی بھلاہی کا سوچتے ہیں۔ باقی ملاقات پر۔ والسلام، آپ کا دوست۔
-
3. غربت اور فقرا کی مدد کرنے والے اپنے گاؤں یا شہر کے سخی افراد کی تعریف و توصیف میں ایک مضمون لکھیے۔
ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے مخیر اور سخی لوگ بھی موجود ہیں جو غریبوں، یتیوں اور محتاجوں کی مدد کو اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔ وہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، مستحق طالب علموں کی فیسیں بھرتے ہیں، اور بیماروں کے علاج کا خرچ اٹھاتے ہیں۔ ایسے لوگ معاشرے میں محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرتے ہیں۔ ان کی سخاوت اور فیاضی کی وجہ سے غریبوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں اور خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ ہمیں بھی ایسے نیک لوگوں کے نقشِ قدم پر چلنا چاہیے۔
لفظیات (صفحہ 90-91)
IV. A) دیے گئے الفاظ کو لغت کے اعتبار سے ترتیب دیجیے۔
-
1. ترتیب: ارثکتی، ارمود، برداست، تندرست، تمصع، تفصیل، خندق، رت کاری، زمصع، فزحمت، وخصوصرت، حیثیت
IV. B) سبق کی مناسبت سے درج ذیل جملے صحیح یا غلط ہیں، قوسین میں لکھیے۔
| Statement | Ans |
|---|---|
| 1. فقیر کی آواز میں گرج تھی جیسے بڑے طبل پر ہاتھ سے چوٹ دینے سے نکلتی ہے۔ | صحیح |
| 2. فقیر کا کمال ہی یہ تھا کہ وہ اس موٹی گرج دار آواز کو اور گرج دار بنا لیتا تھا۔ | صحیح |
| 3. دیمھ بہت شریر لڑکا تھا۔ | غلط |
| 4. چند ہی دنوں میں فقیر بابا کا دھندا ٹھنڈا پڑنے لگا۔ | صحیح |
| 5. ایک رات اپریل کی سردیوں میں بونداباندی کے ساتھ اولے بھی پڑے (یا دسمبر کی سردیوں میں)۔ | غلط |
IV. C) سبق کی مناسبت سے شجری خاکہ مکمل کیجیے۔
- علی عباس حسینی (شخصیت، پیدائش: 3 فروری 1897ء، مقام: مقام پارہ ضلع غازی پور ریاست اترپردیش، وفات: 23 ستمبر 1969ء لکھنؤ، اعلیٰ تعلیم: لیکچرار و پرنسپل گورنمنٹ جوبلی کالج لکھنؤ، تصانیف: قاق کی پری، شادی کہ بہار آئی، یہ کچھ ہنسنے نہیں ہے، الجھے دھاگے، ایک حمام میں، سیلاب کی راتیں، ایک اکتی کے ڈرامے، عروسِ ادب)
IV. D) متعلقہ الفاظ کے جوڑ ملائیے۔
| الف | Ans | ب |
|---|---|---|
| 1. بھانت بھانت | ( d ) | a. رہنے والا |
| 2. گرج دار | ( c ) | b. بیماری |
| 3. باشنده | ( a ) | c. زور کی آواز |
| 4. مرض | ( b ) | d. طرح طرح کے |
| 5. طبل | ( e ) | e. بڑا ڈھول |
IV. E) الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے۔
-
1. حکومت: ہمارے ملک کی حکومت فلاحی کاموں پر توجہ دیتی ہے۔
-
2. مجبور: ہمیں کسی مجبور اور محتاج کی مدد کرنی چاہیے۔
-
3. بھینٹ: اس نے غریبوں کو نذرانہ یا بھینٹ پیش کی۔
-
4. نعرہ: بچوں نے "بالائی والا فقیر" کا نعرہ لگانا شروع کر دیا۔
-
5. دھندا: کچھ لوگ دھوکہ دہی کو اپنا دھندا بنا لیتے ہیں۔
IV. F) صحیح جواب تلاش کر کے قوسین میں لکھیے۔
-
1. سبق بالائی والا فقیر کا موضوع ہے: ( A )
A. ہمدردی
-
2. سبق بالائی والا فقیر کے مصنف ہیں: ( B )
B. علی عباس حسینی
-
3. اس سبق کی صنف ہے: ( C )
C. انشائیہ
-
4. لفظ "انشائیہ" کے لغوی معنی ہیں: ( D )
D. عبارت (یا انشا پردازی / تحریر)
-
5. دیمھ کون سے درجے میں پڑھتا تھا؟ ( A )
A. آٹھویں (یا دسویں / متن کے مطابق دسویں درجہ)
قواعد - زبان شناسی (صفحہ 92-94)
فعلِ حال اور اس کی اقسام
-
معنی: وہ فعل جو موجودہ زمانے میں کیا جا رہا ہو، "فعل حال" کہلاتا ہے۔ اس کی چھ قسمیں ہیں جن میں سے اس سبق میں تین اقسام (حال مطلق، حال نامتم، حال احتمالی) بتائی گئی ہیں۔
📄 Download or view this worksheet/page: