سوچیے اور بولیے
-
1. بچو! کیا آپ ان تصویر کے نام بتا سکتے ہیں؟
جی ہاں، یہ مسجد نبوی اور اس کے سبز گنبد کی تصویریں ہیں۔
-
2. حضور کی تعریف و توصیف میں لکھی گئی نظم کیا کہلاتی ہے؟
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف میں لکھی گئی نظم 'نعت' کہلاتی ہے۔
-
3. ہرے گبند کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
ہرا گنبد مسجد نبوی میں واقع ہے، جس کے نیچے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک ہے۔
سنیے - بولیے
-
1. اللہ کے رسول صلی اللہ ہم نے دشمنوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کے ساتھ ہمیشہ عفو و درگزر، نرمی اور حسن سلوک کا معاملہ کیا۔
-
2. اللہ کے رسول صلی اللہ ہم نے کیسی زندگی بسر کی؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت سادگی، قناعت اور فقیری میں زندگی بسر کی۔
-
3. آپ صلی الم کے آرام فرمانے کا طریقہ کیا تھا؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سادے اور ٹوٹے ہوئے بورئیے پر آرام فرماتے تھے۔
-
4. آپ صلی تعلیم کے نبی ہونے کی دلیل کس کس نے پیش کی؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے کی گواہی چاند، تاروں اور سنگ پاروں (کنکروں) نے دی۔
پڑھنا سمجھنا
-
(الف) دی گئی نظم (حمد) پڑھیے، سوالات کے جوابات لکھیے۔
1. خدا تعریف کا مستحق کیوں ہے ؟خدا اس لیے تعریف کا مستحق ہے کیونکہ اسی نے یہ تمام جہاں، زمین اور آسمان بنائے ہیں اور ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ -
2. بیل بوٹوں کو سبز خلعت پہنانے سے شاعر کے کیا معنی ہیں ؟
اس سے شاعر کی مراد پودوں اور درختوں کو سرسبز اور شاداب بنانا اور ان پر ہرے پتے لانا ہے۔
-
3. چڑیاں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کس طرح کرتی ہیں ؟
چڑیاں اپنی میٹھی آواز میں چہچہاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔
-
4. ہمیں خدا کی کون کون سی نعمتیں میسر ہیں ؟
ہمیں خدا کی بے شمار نعمتیں جیسے زمین، آسمان، درخت، پرندے، پھل، پھول اور زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں میسر ہیں۔
-
(ب) مصرعوں میں الفاظ کی ترتیب بدل کر دی گئی ہے الفاظ کو صحیح ترتیب دیتے ہوئے مصرعے لکھیے۔
1. چاندی تھی سلام اس پر نہ سونا تھا کے گھر میں کہ جسسلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا -
2. زندگی رحمت ہے اس پر درود رحمت ہی کہ جس کی
درود اس پر کہ جس کی زندگی رحمت ہی رحمت ہے
-
3. ٹوٹا بور یہ بچھونا تھا جس کا سلام اس پر کہ
سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا
-
4. جس کا نام ہے تسکین دل و جاں کہ اس پر درود
درود اس پر کہ جس کا نام تسکین دل و جاں ہے
-
5. بادشاہی میں جس نے سلام اس پر فقیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
-
(ج) دیے گئے مصرعوں کی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتے ہوئے مزید چند مصرعے لکھیے۔
یا حبیب سلام علیک
یا رسول سلام علیک
یا مصطفیٰ سلام علیک
یا رحمۃ للعالمین سلام علیک -
(د) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اسمائے مبارکہ یا صفاتی نام لکھیے۔
محمد، احمد، مصطفیٰ، مجتبیٰ، طہٰ، یٰسین، مزمل، مدثر، رحمۃ للعالمین، خاتم النبیین۔
-
چھوڑے گئے مصرعے تحریر کرتے ہوئے اشعار مکمل کیجیے۔
1. سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھاسلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا -
2. سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہی دی
سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی -
3. سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دست گیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
از خود لکھنا
-
(الف) دیے گئے سوالات کے جواب 4 یا 5 جملوں میں لکھیے۔
1. نعت کی تعریف کیجیے۔نعت اس نظم کو کہتے ہیں جس میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہو۔ اس میں آپ ﷺ کی سیرت، اخلاق اور معجزات کا ذکر بڑی محبت اور عقیدت سے کیا جاتا ہے۔ -
2. سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی کا ذکر کرتے ہوئے اپنے الفاظ میں چند جملے لکھیے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہانوں کے سردار ہونے کے باوجود نہایت سادگی سے زندگی گزارتے تھے۔ آپ کے گھر میں دولت، سونا یا چاندی جمع نہیں ہوتا تھا۔ آپ اپنے کام خود کرتے تھے اور کھجور کے پتوں سے بنے ہوئے سادے اور ٹوٹے بورئیے پر آرام فرماتے تھے۔
-
3. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ایک معجزہ بیان کیجیے جو آپ جانتے ہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مشہور معجزہ 'شق القمر' ہے۔ کفار کے مطالبے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کر دیے تھے، جسے سب لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
-
(ب) دیے گئے سوالات کے جواب 8 یا 10 جملوں میں لکھیے۔
1. نعت کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔اس نعت میں ماہر القادری نے حضور اکرم ﷺ کے اعلیٰ اخلاق اور سیرت کو بڑی عقیدت سے پیش کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے بے سہاروں کی مدد کی اور دو جہاں کے بادشاہ ہونے کے باوجود فقیری اختیار کی۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو محبت کا سبق دیا اور ظلم کے بدلے ہمیشہ پھول برسائے۔ آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی چاند، تاروں اور پتھروں نے بھی دی۔ آپ ﷺ کا نام مبارک دلوں کا سکون ہے اور آپ کی پوری زندگی تمام کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے۔ -
2. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن سلوک لوگوں کے ساتھ کیسا تھا؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے ساتھ حسن سلوک بے مثال تھا۔ آپ دوستوں، غریبوں اور یتیموں کے ساتھ بے حد محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ آپ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی درگزر اور نرمی کا برتاؤ کرتے تھے۔ طائف کے لوگوں نے آپ پر پتھر برسائے تو آپ نے انہیں بددعا دینے کے بجائے ہدایت کی دعا دی۔ آپ نے اپنی زندگی میں کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا اور ہمیشہ زخم کھا کر بھی لوگوں پر پھول برسائے۔
-
3. "سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہی دی " اس مصرعے کی تشریح کیجیے۔
اس مصرعے میں شاعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور رسالت کی سچائی کا ذکر کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ہر بے جان اور جاندار چیز نے آپ ﷺ کے سچے نبی ہونے کی گواہی دی ہے۔ یہاں تک کہ آسمان کے چاند اور ستاروں نے بھی آپ کے اشاروں پر عمل کر کے (جیسے شق القمر کا معجزہ) آپ کی نبوت اور بزرگی کا اعلان کیا۔
لفظیات
-
(الف) نظم پیکر اخلاق غور سے پڑھیے اور اس میں موجود مرکب الفاظ کی نشاندہی کرتے ہوئے ذیل میں لکھیے۔
دست گیری، بے کسوں، بادشاہی، سنگ پاروں، تسکینِ دل، عین عبادت۔
-
(ب) دیے گئے الفاظ کی ضد لکھیے۔
الفاظ ضد 1. محبت نفرت 2. دوست دشمن 3. پھول کانٹے 4. تسکین بے چینی / تکلیف 5. زندگی موت 6. فقیری بادشاہی / امیری -
(ج) خالی جگہوں کو صحیح الفاظ سے پر کیجیے۔
1. نظم پیکر اخلاق ماہر القادری کی لکھی ہوئی ہے۔
2. منظور حسین کا قلمی نام ماہر القادری تھا۔
3. ماہر القادری 1907ء بلند شہر، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔
4. ذکر جمیل، نقش توحید، ظہور قدسی وغیرہ کے شاعر ماہر القادری ہیں۔
5. ماہر القادری کی وفات 1978 عیسوی میں ہوئی۔ -
ذیل کے جملے پڑھ کر بتائیے کہ یہ جملے کن عیدوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
1. قربانی کی سنت ادا کرنے والی عید۔عید الاضحیٰ (بقرعید) -
2. اس عید کو ہر گھر میں شیر خورمہ بنایا جاتا ہے۔
عید الفطر
-
3. ہندوستان کی آزادی کی خوشی میں منایا جانے والا جشن۔
یومِ آزادی
-
4. نئی فصل کے کٹنے پر ہندوؤں کے ہاں منائی جانے والی عید
مکر سنکرانتی (یا پونگل)
-
5. 25 دسمبر کو منائی جانے والی عیسائیوں کی عید۔
کرسمس
-
ہفتے کے سات دنوں کے نام اردو اور انگریزی میں لکھیے۔
اردو نام انگریزی نام پیر Monday منگل Tuesday بدھ Wednesday جمعرات Thursday جمعہ Friday ہفتہ Saturday اتوار Sunday
تخلیقی اظہار
-
الف) دیے گئے مصروں کو اپنے الفاظ میں تشریح کیجیے۔
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دست گیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اس پر کہ اسرارِ محبت جس نے سکھلائے
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائےتشریح: ان مصرعوں میں شاعر نبی کریم ﷺ کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ بے سہاروں کا سہارا بن کر ان کی مدد کی۔ آپ ﷺ دو جہاں کے بادشاہ ہو کر بھی فقیری اور سادگی کو پسند کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے دنیا کو محبت اور بھائی چارے کے راز سکھائے اور ان لوگوں کو بھی دعائیں دیں جنہوں نے آپ ﷺ کو تکلیفیں پہنچائیں۔ -
ب) اگر آپ کو غریبوں اور بے کسوں کی مدد کرنے کا موقع ملے ، تو آپ ان کی مدد کیسے کریں گے؟
اگر مجھے غریبوں کی مدد کرنے کا موقع ملے تو میں ان کی بنیادی ضروریات جیسے کھانا، کپڑے اور تعلیم میں ان کی مالی اور اخلاقی مدد کروں گا۔ میں اپنی جیب خرچ سے پیسے بچا کر ضرورت مندوں کو دوں گا اور ان کے دکھ درد میں ان کا ساتھ دوں گا۔
توصیف
-
نعت میں آپ صلی کی ذات کو "تسکین دل و جاں" (دل اور جان کا سکون) کہا گیا ہے۔ شاعر کے اس خوبصورت اور عقیدت بھرے لفظ کی تعریف اپنے الفاظ میں کریں۔
"تسکین دل و جاں" سے مراد وہ عظیم ہستی ہے جس کے ذکر اور مبارک نام سے دل اور روح کو سکون ملتا ہے۔ ایک مومن کے لیے نبی کریم ﷺ سے محبت ایمان کی بنیاد ہے، اور جب وہ اپنے محبوب نبی کا ذکر سنتا ہے تو اس کے بے چین دل کو قرار اور روحانی راحت حاصل ہوتی ہے۔
قواعد زبان شناسی
-
الف) ذیل کے جملوں میں خط کشیدہ الفاظ کی نشاندہی کرتے ہوئے قوسین میں لکھیے کہ وہ مستقل کلمہ ہے یا غیر مستقل کلمہ ۔
1. حمید کی کتاب گم ہو گئی ہے۔ (کی)(غیر مستقل کلمہ) -
2. فاطمہ نماز پڑھ رہی ہے۔ (نماز)
(مستقل کلمہ)
-
3. ماہر اچھے شاعر ہیں۔ (اچھے/شاعر)
(مستقل کلمہ)
-
4. بکری کا بچہ بہت پیارا ہے۔ (کا)
(غیر مستقل کلمہ)
-
5. میں اسکول میں اول آتا ہوں۔ (میں)
(غیر مستقل کلمہ)
-
6. یہ گھوڑا کس کا ہے ؟ (کا)
(غیر مستقل کلمہ)
-
7. چادر سر پر اوڑھ لو۔ (پر)
(غیر مستقل کلمہ)
-
8. گائے گھاس کھا رہی ہے۔ (گھاس)
(مستقل کلمہ)
-
9. وہ بازار سے آیا ہے۔ (سے)
(غیر مستقل کلمہ)
-
10. احمد ہی یہ کام کر سکتا ہے۔ (ہی)
(غیر مستقل کلمہ)
-
اے بچو! دیے گئے جملوں میں حروف ربط، حروف عطف، حروف تخصیص اور حروف فجائیہ کی نشاندہی کرتے ہوئے قوسین میں لکھیے۔
1. سبحان اللہ ! آپ بہت خوب لگتے ہیں۔(حروف فجائیہ) -
2. دکان سے صابن خرید لاؤ۔
(حروف ربط)
-
3. اللہ ہی خالق دو جہاں ہے۔
(حروف تخصیص)
-
4. شوکت اسکول آیا مگر محمود نہیں آیا۔
(حروف عطف)
-
5. ہر لمحہ کار آمد ہونا چاہیے۔
(حروف تخصیص)
-
6. شاباش ! تم کامیاب ہو گئے۔
(حروف فجائیہ)
-
7. تم انتظار کرو خواہ وہ آئے یا نہ آئے۔
(حروف عطف)
-
8. تم کب تک آؤ گے۔
(حروف ربط)
-
9. اب تو تمہیں یہ کام بھی کرنا پڑے گا۔
(حروف تخصیص)
-
10. میز پر قلم ہے۔
(حروف ربط)
-
دیے گئے سوالات پڑھیے اور صحیح جواب کا انتخاب کر کے قوسین میں لکھیے۔
1. سبحان اللہ ! آپ بہت خوب لگتے ہیں۔ اس میں سبحان اللہ ہے۔Answer: D. حروف فجائیہ -
2. دکان سے صابن خرید لاؤ۔ اس جملے میں حروف ربط ہے۔
Answer: B. سے
-
3. ذیل میں حروفِ تخصیص ہے۔