سوچیے اور بولیے
-
1. ان تصاویر میں آپ لوگوں کو کیا نظر آیا ہے ؟ بولیے۔
ان تصاویر میں بچے کتب خانے (لائبریری) میں بیٹھے کتابیں پڑھ رہے ہیں اور ایک استانی جماعت میں بچوں کو پڑھا رہی ہیں۔[cite: 43]
-
2. کتب خانوں سے ہم کو کیا فائدے حاصل ہوتے ہیں ؟ بتائیے۔
کتب خانوں سے ہمیں مختلف موضوعات پر بے شمار کتابیں پڑھنے کو ملتی ہیں، جس سے ہمارے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور معلومات بڑھتی ہیں۔[cite: 43]
-
3. علم حاصل کرنا کیوں ضروری ہے اور اس سے کیا فائدے حاصل ہوتے ہیں ؟
علم حاصل کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ ہمیں اچھے اور برے کی پہچان سکھاتا ہے، انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی دلاتا ہے اور معاشرے میں عزت کا باعث بنتا ہے۔[cite: 43]
یہ کیجیے - سنیے - بولیے
-
1. علم نہ ہونے والے انسان کے بارے میں شاعر نے کیا کہا ہے ؟
شاعر نے کہا ہے کہ جس کے پاس علم نہیں ہے وہ درحقیقت انسان کہلانے کے لائق نہیں، اور علم کے بغیر وقت کا بادشاہ بھی مفلس اور فقیر کہلاتا ہے۔[cite: 44, 46]
-
2. شاعر نے علم کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے ؟
شاعر نے علم کو ایک ایسے لازوال خزانے سے تشبیہ دی ہے جسے پا کر انسان غریب نہیں رہتا۔[cite: 44, 46]
-
3. شاعر کے مطابق قوم کب ممتاز بنتی ہے ؟
شاعر کے مطابق جو قوم علم کی قدر کرتی ہے اور اس پر جان فدا کرتی ہے، وہی قوم صنعت و حرفت میں ممتاز اور کامیاب بنتی ہے۔[cite: 45, 46]
پڑھنا ۔ سمجھنا
-
الف) دی گئی رباعی غور سے پڑھیے اور سوالات کے جواب دیجیے۔
1. کتنے مصروں والی نظم کو رباعی کہتے ہیں ؟چار مصرعوں والی نظم کو رباعی کہتے ہیں۔[cite: 47] -
2. گلشن میں صبا کو کس کی جستجو ہے ؟
گلشن میں صبا کو خالقِ کائنات (اللہ تعالیٰ) کی جستجو ہے۔[cite: 47]
-
3. بلبل کی زبان پر کس کی گفتگو ہو رہی ہے ؟
بلبل کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی ہی گفتگو ہو رہی ہے۔[cite: 47]
-
4. ہر رنگ میں کس کا جلوہ ہے ؟
ہر رنگ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا جلوہ نظر آتا ہے۔[cite: 47]
-
5. رباعی کے آخری مصرعے میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے ؟
آخری مصرعے میں شاعر کہنا چاہتا ہے کہ دنیا کی ہر خوبصورت چیز اور ہر پھول کی خوشبو میں اللہ کی ہی ذات کا عکس اور جلوہ موجود ہے۔[cite: 47]
-
ب) دی گئی تشریحات سے تعلق رکھنے والے اشعار لکھیے۔
(i) علم ایسی ذات ہے جس سے ناصرف دنیا کا بھلا ہے بلکہ دین کا بھی بھلا ہےاے علم تری ذات سے دنیا کا بھلا ہے / دنیا ہی نہیں، دین کی بھی تجھ پہ بنا ہے[cite: 44, 47] -
(ii) اگر علم انسان کی رہبری نہ کرے تو انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔ علم کے بغیر انسان کو خدا کی پہچان بھی نہ ہو گی۔
گم راہ رہے خلق، اگر تو نہ ہو رہبر / گر تو نہ کہے، کس کو خبر، کون خدا ہے[cite: 45, 47]
-
(iii) اگر وقت کے بادشاہ کے پاس علم کا خزانہ نہ ہو تو وہ مفلس اور فقیر کہلائے گا۔
تو ہے وہ خزانہ کہ جسے تو نہیں حاصل / گر شاہ زمان بھی ہو تو مفلس ہے، گدا ہے[cite: 44, 47]
-
(iv) دنیا کے ہر خطے میں علم کی حکومت ہے۔ علم کے آگے بادشاہوں کا سر بھی ہمیشہ جھکا رہتا ہے۔
کس خطہ دنیا میں نہیں تیری حکومت / شاہوں کا سر آگے ترے ہر وقت جھکا ہے[cite: 45, 47]
-
(v) جس کے پاس علم نہیں ہوتا وہ انسان نہیں کہلاتا۔ اللہ نے صرف علم کی وجہ سے انسان کو انسان ہونے کا شرف بخشا ہے۔
تو جس کے نہیں پاس، وہ انسان نہیں ہے / انساں کو شرف، علم سے خالق نے دیا ہے[cite: 44, 48]
-
ج) دیے گئے مصرعوں میں الفاظ کا املا غلط دیا گیا ہے۔ غلط املا والے الفاظ پر خط کشید کیجیے اور صحیح لفظ قوسین میں لکھیے۔
1. انسان ایک سماجی حےوان ہے۔ ( حیوان )[cite: 48] - 2. وقت کی کدر کرو۔ ( قدر )[cite: 48]
- 3. ہمارا ملک جمھوری ملک ہے۔ ( جمہوری )[cite: 48]
- 4. علم ایک قزانہ ہے۔ ( خزانہ )[cite: 48]
- 5. اکبر ایک عزیم بادشاہ ہے۔ ( عظیم )[cite: 48]
-
د) خالی جگہوں کو پر کرتے ہوئے مصرعوں کو مکمل کیجیے۔
1. اے علم تری ذات سے دنیا کا بھلا ہے[cite: 44, 48] - 2. دنیا ہی نہیں دین کی بھی تجھ پہ بنا ہے[cite: 44, 48]
- 3. انسان کو شرف علم سے خالق نے دیا ہے[cite: 44, 48]
- 4. گر شاہ زمان بھی ہو تو مفلس ہے گدا ہے[cite: 44, 48]
-
ہ) جوڑ ملائیے:
A Ans B 1. توریت ( b ) a. حضرت محمد مصطفی 2. زبور ( c ) b. حضرت موسی علیہ السلام 3. انجیل ( d ) c. حضرت داؤد علیہ السلام 4. قرآن مجید ( a ) d. حضرت عیسی علیہ السلام -
و) نظم میں موجود ردیف اور تمام قوافی کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھیے۔
نظم میں ردیف "ہے" ہے۔ اور قوافی درج ذیل ہیں: بھلا، بنا، دیا، گدا، پایا، لیا، خدا، فدا، برا، مزا۔[cite: 44, 45, 48]
- ز) دی گئی رباعی پڑھیے اور