سوالوں کے جواب لکھیے :
-
1. افسانہ نگار ہوٹل میں کس کا منتظر تھا اور کیوں ؟
افسانہ نگار ہوٹل میں ایک اخبار کے ایڈیٹر کا منتظر تھا[cite: 7]۔ ایڈیٹر نے اسے وہاں ملنے اور ترجمے کا کام دینے کا وعدہ کیا تھا[cite: 7]۔ افسانہ نگار امید لگائے بیٹھا تھا کہ کام ملتے ہی وہ کچھ ایڈوانس مانگ لے گا تاکہ اپنی غربت اور پریشانی کے دن گزار سکے[cite: 7]۔
-
2. اس کہانی میں زندگی کی کون سی سچائی بیان کی گئی ہے؟
اس کہانی میں غربت، بے روزگاری اور انسانی نفسیات کی کمزوری جیسی تلخ سچائیاں بیان کی گئی ہیں۔ دکھایا گیا ہے کہ مجبوری اور حالات کی سختی انسان کو کس طرح غلط قدم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے، اور کیسے اچانک موت تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ ساتھ ہی، یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ احساسِ ندامت اور ضمیر کی خلش انسان کو بالآخر پچھتاوے کی طرف لے جاتی ہے۔
-
3. مولا بخش کے کردار پر روشنی ڈالیے۔
مولا بخش ایک غریب اور محنتی مزدور تھا جو شطرنجی ڈیزائن کی لنگی اور فیتے والی گنجی پہنتا تھا[cite: 7]۔ وہ شکل سے پست قد، گٹھا ہوا اور سیاہی مائل شخص تھا جس کے کان کی لو تھوڑی کٹی ہوئی تھی[cite: 7]۔ وہ اپنی بیوی سکینہ سے بہت محبت کرتا تھا اور ایک ذمے دار شوہر تھا جو ہر مہینے باقاعدگی سے اپنی بیوی کو منی آرڈر کے ذریعے پیسے بھیجتا تھا[cite: 7]۔ وہ دوسروں پر اعتبار کرنے والا سیدھا سادہ انسان تھا۔
-
4. اس کہانی کا عنوان تھی کیوں رکھا گیا ہے؟
کہانی کا عنوان 'سخی' طنزیہ طور پر رکھا گیا ہے۔ افسانہ نگار جو خود غریب اور بے روزگار تھا، جب مولا بخش کی امانت (منی آرڈر کے ساٹھ روپے) میں خیانت کرتا ہے تو وہ خود کو شرمندگی سے بچانے کے لیے اسے اپنی سخاوت اور ضرورت کا لبادہ پہنا لیتا ہے۔ لیکن جب وہ مولا بخش کی لاش دیکھتا ہے اور چادر پر اپنے پاس بچے ہوئے بائیس روپے پھینک دیتا ہے تو وہ یہ عمل کسی سخاوت کی بنا پر نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی آواز اور احساسِ گناہ کی وجہ سے کرتا ہے[cite: 7]۔