سوالوں کے جواب لکھیے :
-
1. سلطان کو زیپو خالہ کا باہر جانے پر ٹوکنا کیوں بُرا لگتا ہے؟
سلطان کو زیبو خالہ کا ٹوکنا اس لیے برا لگتا تھا کیونکہ جب وہ دادا کو چھپریا میں چھوڑ کر کھیلنے کے لیے چپکے سے نکلنا چاہتا تھا، تو زیبو خالہ شور مچا دیتی تھی کہ وہ اپنے بوڑھے اور اپاہج دادا کو اکیلا چھوڑ کر جا رہا ہے[cite: 6]۔ اس کی وجہ سے اس کا کھیلنے جانا مشکل ہو جاتا تھا۔
-
2. سلطان کو دادا کا ہاتھ لوہے کی ٹوپی جیسا کیوں لگتا تھا اور بعد میں اس کے نہ ہونے پر اسے کیا محسوس ہوا ؟
سلطان کو دادا کا ہاتھ لوہے کی ٹوپی (پتھر کی ٹوپی) جیسا اس لیے لگتا تھا کیونکہ دادا اپنا ہاتھ سختی سے اس کے سر پر جمائے رکھتا تھا، جس کی وجہ سے وہ مجبوراً دادا کے ساتھ سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے گھومتا رہتا تھا اور اس میں اسے قیدیوں جیسی گھٹن محسوس ہوتی تھی[cite: 6]۔ دادا کے مرنے کے بعد، جب وہ ہاتھ اس کے سر پر نہیں رہا اور زیبو خالہ نے اسے اکیلے بھیک مانگنے بھیجا، تو اسے دادا کی کمی شدت سے محسوس ہوئی، اس کا دل گھبرا گیا اور وہ زار و قطار رونے لگا[cite: 6]۔
-
3. سلطان نے بابوجی سے اپنے سر کے اوپر ہاتھ رکھ کر تھوڑی دور چلنے کی درخواست کیوں کی؟
سلطان نے بابو جی سے درخواست اس لیے کی کیونکہ دادا کی وفات کے بعد وہ خود کو انتہائی تنہا اور غیر محفوظ محسوس کر رہا تھا[cite: 6]۔ اگرچہ اسے دادا کا ہاتھ اپنے سر پر بوجھ لگتا تھا، لیکن درحقیقت وہ ہاتھ اس کے لیے ایک سہارا اور پناہ تھا[cite: 6]۔ سڑک پر اکیلے بھیک مانگتے ہوئے اسے اس مانوس سہارنے کی شدت سے یاد آئی اور اس نے بے ساختہ بابو جی سے وہ کمی پوری کرنے کی التجا کر دی[cite: 6]۔