مشق: لفظ و معنی (رباعی 1)[cite: 22]
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| مسرت[cite: 22] | خوشی[cite: 22] |
| ملول[cite: 22] | اداس ، رنجیدہ[cite: 22] |
| فطرت[cite: 22] | قدرت، نیچر[cite: 22] |
سوالوں کے جواب لکھیے :[cite: 22]
-
1. اس رباعی میں شاعر نے کیا پیغام دیا ہے؟[cite: 22]
اس رباعی میں شاعر نے یہ پیغام دیا ہے کہ خدا کی عطا کردہ نعمتوں اور خوشیوں کی قدر کرنی چاہیے اور دوسروں کو اداس نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی کا سفر بہرحال کٹ جانا ہے، اس لیے اسے رو کر گزارنے کے بجائے ہنس کر خوشی سے گزارنا چاہیے۔[cite: 22]
-
2. اس رباعی میں کون کون سے قافیے استعمال ہوئے ہیں؟[cite: 23]
اس رباعی میں 'کھو کر'، 'ہو کر' اور 'رو رو کر' قافیے استعمال ہوئے ہیں۔[cite: 22, 23]
عملی کام[cite: 23]
-
اس رباعی کو بلند آواز سے پڑھیے اور زبانی یاد کیجیے۔[cite: 23]
(طلبہ اس رباعی کو بلند آواز سے پڑھیں اور زبانی یاد کرنے کی مشق کریں۔)[cite: 23]
مشق: لفظ و معنی (رباعی 2)[cite: 23]
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| نکوئی[cite: 23] | نیکی[cite: 23] |
| راست گوئی[cite: 23] | سچ بولنا[cite: 23] |
| صلح جوئی[cite: 23] | باہمی میل جول اور امن سے زندگی گزارنے کی کوشش[cite: 23] |
| حسن عمل[cite: 23] | اچھے کام[cite: 23] |
سوالوں کے جواب لکھیے :[cite: 24]
-
1. شاعر نے اس رباعی میں مذہب کے کس پیغام کا ذکر کیا ہے؟[cite: 24]
شاعر نے اس رباعی میں ذکر کیا ہے کہ مذہب باہمی میل جول، امن، اچھے کام (حسنِ عمل)، سچ بولنے (راست گوئی) اور صلح جوئی کا پیغام دیتا ہے، اور مذہب کے نام پر لڑائی جھگڑے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔[cite: 23, 24]
-
2. حسن عمل اور راست گوئی سے کیا مراد ہے؟[cite: 24]
'حسنِ عمل' سے مراد اچھے کام کرنا ہے، اور 'راست گوئی' سے مراد ہمیشہ سچ بولنا ہے۔[cite: 23, 24]
عملی کام[cite: 24]
نیچے دیے گئے الفاظ کے متضاد لکھیے ۔ (راست گوئی، لڑائی، نکوئی)[cite: 24]
| الفاظ[cite: 24] | متضاد (جواب) |
|---|---|
| راست گوئی[cite: 24] | دروغ گوئی (جھوٹ بولنا) |
| لڑائی[cite: 24] | صلح / دوستی |
| نکوئی[cite: 24] | برائی |