رباعی (1) - مشق: لفظ و معنی (صفحہ 157)[cite: 18]
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| معدن[cite: 18] | کان[cite: 18] |
| کوہ[cite: 18] | پہاڑ[cite: 18] |
| دشت[cite: 18] | جنگل[cite: 18] |
| جا[cite: 18] | جگہ[cite: 18] |
سوالوں کے جواب لکھیے :[cite: 18]
-
1. گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوں سے شاعر کی کیا مراد ہے؟[cite: 18]
اس مصرعے سے شاعر کی مراد یہ ہے کہ وہ خواہ باغ کی سیر کرے یا جنگل اور ریگستان میں جائے، اسے ہر جگہ اللہ کی قدرت کے جلوے اور نشانیاں ہی نظر آتی ہیں۔[cite: 18]
-
2. قدرت کے جلووں کی کثرت نے شاعر پر کیا اثر ڈالا ہے؟[cite: 19]
قدرت کے بے شمار جلووں کو دیکھ کر شاعر حیرت زدہ ہے کہ وہ اپنی ان دو آنکھوں سے اللہ کی قدرت کے اتنے سارے نظاروں میں سے کیا کیا دیکھے۔[cite: 18, 19]
عملی کام[cite: 19]
-
اس رباعی میں کچھ ایسے الفاظ آئے ہیں جن کے درمیان 'و' کا استعمال ہوا ہے جیسے معدن وکوہ ۔ دو لفظوں کے اس طرح ملانے والے حرف 'و' کو حرف عطف کہتے ہیں۔ آپ ایسی پانچ تراکیب لکھیے جن میں حرف عطف کا استعمال کیا گیا ہو۔[cite: 19]
1. صبح و شام
2. زمین و آسمان
3. علم و ہنر
4. رنج و غم
5. گل و بلبل
رباعی (2) - مشق: لفظ و معنی (صفحہ 158 - 159)[cite: 19, 20]
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| رتبہ[cite: 19] | درجہ[cite: 19] |
| فروتنی[cite: 19] | عاجزی، انکساری[cite: 19] |
| تہی مغز[cite: 19] | خالی دماغ، احمق[cite: 19] |
| ثنا[cite: 20] | تعریف[cite: 20] |
| ظرف[cite: 20] | برتن[cite: 20] |
| صدا[cite: 20] | آواز[cite: 20] |
سوالوں کے جواب لکھیے : (صفحہ 159)[cite: 20]
-
1. دل میں فروتنی کو جا دینے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟[cite: 20]
اس سے شاعر کی مراد دل میں عاجزی اور انکساری پیدا کرنا ہے۔ یعنی جسے اللہ تعالیٰ دنیا میں بلند رتبہ عطا کرتا ہے، وہ غرور و تکبر کرنے کے بجائے اپنے اندر عاجزی پیدا کر لیتا ہے۔[cite: 19, 20]
-
2. شاعر خالی ظرف کی صدا سے کیا سمجھانا چاہتا ہے؟[cite: 20]
جس طرح خالی برتن زیادہ آواز دیتا ہے، بالکل اسی طرح کم ظرف اور کم عقل (تہی مغز) لوگ اپنی تعریف خود کرتے ہیں۔ شاعر اس مثال سے انسان کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ اعلیٰ ظرف والے خاموش رہتے ہیں جبکہ کم ظرف دکھاوا کرتے ہیں۔[cite: 19, 20]
عملی کام[cite: 20]
-
اس رباعی کو زبانی یاد کیجیے۔[cite: 20]
(طلبہ اس رباعی کو زبانی یاد کرنے کی مشق کریں۔)