لفظ و معنی :[cite: 2]
| لفظ | معنی |
|---|---|
| حیات[cite: 2] | زندگی[cite: 2] |
| قضا[cite: 2] | موت، حکم خدا[cite: 2] |
| بساط[cite: 2] | چوسر اور شطرنج کھیلنے کا کپڑا یا تختہ[cite: 2] |
| بد قمار[cite: 2] | وہ جواری جو غلط چال یا داؤ چلے[cite: 2] |
| بوقت مرگ[cite: 2] | موت کے وقت[cite: 2] |
| فغال[cite: 2] | آہ وزاری، واویلا[cite: 2] |
| نازاں[cite: 2] | ناز کرنے والا ، فخر کرنے والا[cite: 2] |
| خرد[cite: 2] | عقل[cite: 2] |
| دانشوری[cite: 2] | عقلمندی، دانائی، حکمت[cite: 2] |
| بادصبا[cite: 2] | صبح کی ٹھنڈی ہوا، پر وائی[cite: 2] |
سوالوں کے جواب لکھیے :[cite: 2]
-
1. اس غزل کے مطلع کا مطلب لکھیے ۔[cite: 2]
اس غزل کے مطلع میں شاعر ذوق کہتے ہیں کہ انسان دنیا میں اپنی مرضی سے نہیں آتا بلکہ زندگی اسے دنیا میں لاتی ہے، اور اسی طرح وہ اپنی مرضی سے واپس نہیں جاتا بلکہ موت اسے لے جاتی ہے۔ یعنی انسان زندگی اور موت دونوں کے معاملے میں بے بس ہے۔
-
2. عمر خضر سے شاعر کی کیا مراد ہے؟[cite: 2]
عمرِ خضر سے شاعر کی مراد بہت طویل اور لمبی عمر ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے آبِ حیات پیا ہے اور وہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔[cite: 2]
-
3. ہم کیا رہے یہاں ، ابھی آئے ابھی چلئے اس مصرعے کے ذریعے شاعر نے انسانی زندگی کے کس پہلو کی نشاندہی کی ہے؟[cite: 2]
اس مصرعے کے ذریعے شاعر نے انسانی زندگی کے عارضی پن اور ناپائیداری کی نشاندہی کی ہے۔ زندگی اتنی مختصر ہے کہ انسان کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ابھی دنیا میں آیا تھا اور فوراً ہی اس کے جانے کا وقت آ گیا۔
-
4. غزل کے مقطع میں چمن سے شاعر کی کیا مراد ہے؟[cite: 2]
غزل کے مقطع میں "چمن" سے شاعر کی مراد یہ دنیا ہے۔ شاعر اس فانی دنیا کو ایک باغ (چمن) سے تشبیہ دے رہا ہے جہاں سے اسے ایک دن جانا ہے۔
عملی کام :[cite: 2]
-
1. اس غزل کے کچھ شعر زبانی یاد کیجیے اور بلند آواز سے پڑھیے۔[cite: 2]
(طلبہ اس غزل کے اشعار زبانی یاد کریں اور جماعت میں بلند آواز سے پڑھنے کی مشق کریں۔)