لفظ و معنی :
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بے سپر | بغیر ڈھال کے مراد بغیر کسی بچاؤ کے |
| نسیم | صبح کی خوش گوار ہوا |
| اضطراب | بے چینی ، بے قراری |
| خاکسار | خاک کی مانند، عاجز ، حقیر |
| جوش و خروش | بہت زیادہ جوش اور تیزی |
| لیل و نہار | رات اور دن |
| بہ سنگ | پتھر سے |
| موج تند | تیز لہر، تیز جھونکا |
| کوہسار | پہاڑی یا پہاڑی سلسلہ |
سوالوں کے جواب لکھیے :
-
1. "نسیم تیری چھاتی کے پار گزرے ہے" سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
اس سے شاعر کی مراد یہ ہے کہ بہار کے موسم میں محبوب اور شراب کے بغیر چلنے والی صبح کی ٹھنڈی ہوا بھی دل کو چیرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور تیر کی طرح چھاتی کے پار گزر جاتی ہے۔
-
2. "میں وہ نہیں کہ کوئی مجھ سے مل کے ہو بد نام" سے شاعر کا کیا مطلب ہے؟
شاعر کا مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی برا انسان نہیں ہے جس سے مل کر کوئی بدنام ہو جائے۔ وہ اپنے محبوب کو یقین دلاتا ہے کہ اس سے ملنے میں کوئی برائی یا بدنامی کا ڈر نہیں ہونا چاہیے۔
-
3. مقطعے کے قطعہ بند اشعار میں شاعر نے اپنی کس کیفیت کا اظہار کیا ہے؟
مقطعے کے قطعہ بند اشعار میں شاعر نے اپنی بے قراری، جوش و خروش اور دیوانگی کی کیفیت کا اظہار کیا ہے۔ وہ اس قدر بے چین ہے کہ دن رات اسی فکر میں رہتا ہے اور دیوانگی میں اپنا سر پتھروں اور پہاڑوں سے ٹکراتا پھرتا ہے۔
عملی کام:
-
1. اس غزل کے اشعار میں شاعر نے جہاں جہاں اضافت کا استعمال کیا ہے ان کی نشاندہی کیجیے۔
غزل میں درج ذیل مقامات پر اضافت کا استعمال ہوا ہے: اضطرابِ نسیم، موجِ تند، سرِ کوہسار۔
-
2. اس غزل کے قافیوں کی فہرست بنائیے۔
اس غزل کے قافیے درج ذیل ہیں: پار، بار، خاکسار، یار، دھار، نہار، کوہسار۔