لفظ و معنی :
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بنجر | وہ زمین جس میں کچھ پیدا نہ ہو |
| برف پوش چوٹیاں | برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں |
| دل کش | دل کو لبھانے والا |
| دق کرنا | تنگ کرنا، پریشان کرنا |
| چشمہ | پانی کا سوتا |
| حسرت | کسی چیز کے نہ ملنے کا احساس |
| پسپا | شکست، ہار |
سوالوں کے جواب لکھیے :
-
1. موتی نگر کی وادی میں داخل ہوتے ہی مسافروں کا مزاج کیوں بدل گیا ؟
موتی نگر کی وادی میں داخل ہوتے ہی منظر اور موسم بدل گیا تھا۔ سامنے نندا دیوی اور ترشول کی برف پوش چوٹیاں چمک رہی تھیں اور دوسری طرف ڈھلواں پہاڑوں پر سیب، ناشپاتی اور آلوچوں کے باغوں کی ہریالی تھی، جس کی وجہ سے مسافروں کا مزاج خوشگوار ہو گیا۔
-
2. رجنی کو ایسی کون سی خوشی حاصل ہوئی جس کی وجہ سے وہ رات بھر سو نہ سکی؟
رجنی کو یہ خوشی تھی کہ کیلاش (بابوجی) نے اسے اور اس کے بھائی کو نوکری پر رکھنے اور ساتھ لے جانے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اب اسے پیٹ بھر روٹیاں ملیں گی، پہننے اوڑھنے کو ملے گا اور اسے ٹوٹے کواڑوں والی کوٹھری کے خوف سے نجات مل جائے گی۔
-
3. پہاڑ پر چڑھتے وقت رجنی اور اس کے بہن بھائیوں کے جذبات کیا تھے؟
پہاڑ پر چڑھتے وقت چھوٹے چھوٹے انسانوں کا یہ قافلہ ڈانٹ اور مار، خوف اور آنسو، تھکاوٹ اور ہانپنے کے ساتھ ساتھ امیدوں اور تمناؤں کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اوپر چڑھ رہا تھا۔
-
4. کیلاش نے ایسا کیا کہا جسے سن کر رجنی پر بجلی سی گر پڑی؟
کیلاش نے رجنی کی اتنی بڑی فوج (پانچ بہن بھائیوں) کو دیکھ کر جھنجھلا کر کہا، "تو نے کل کیوں نہیں بتلایا کہ تیرے ساتھ اتنی بڑی فوج ہے، سب کو میں کہاں رکھ سکتا ہوں؟" یہ سن کر رجنی پر بجلی گر پڑی اور اس کی تمام امیدیں ٹوٹ گئیں۔
عملی کام :
-
1. افسانے کا مرکزی خیال بتائیے۔
اس افسانے کا مرکزی خیال انسان کی بنیادی ضرورتوں (روٹی، کپڑا اور مکان) کے مسائل اور بھوک مٹانے کی جدوجہد ہے۔ اس میں ایک مفلس ہندوستانی لڑکی رجنی کی ممتا، ایثار اور قربانی کو اجاگر کیا گیا ہے جو اپنی فاقہ کشی کے باوجود اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھتی ہے۔
-
2. اس افسانے میں ایک محاورہ استعمال ہوا ہے ”بجلی گرنا“ ۔ یہ محاورہ کس موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ ایک یا دو جملوں میں استعمال کر کے واضح کیجیے۔
محاورہ "بجلی گرنا" اچانک کوئی بہت بڑی مصیبت آنے، صدمہ پہنچنے یا سخت مایوسی اور نامرادی کے موقع پر استعمال ہوتا ہے۔
جملہ: کیلاش کا انکار سن کر رجنی کی امیدوں پر گویا بجلی گر پڑی۔ -
3. اس افسانے کے آخری جملے کی وضاحت کیجیے۔
افسانے کا آخری جملہ ("رجنی بچوں کو اندھیرے اور بھوک اور ڈر کی آغوش میں چھوڑ کر پڑوسیوں کی دیا کا امتحان کرنے نکل کھڑی ہوئی۔") رجنی کی انتہائی مجبوری اور بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ کیلاش سے مایوس ہونے اور دو روپے کی پوریاں ہضم ہونے کے بعد، بھوکے بچوں کی خاطر اسے اندھیرے اور ڈر کے باوجود پڑوسیوں سے رحم کی امید پر دوبارہ نکلنا پڑا۔
📄 Download or view this worksheet/page: