Type Here to Get Search Results !

AP 10th Urdu Textbook solutions 4.سرسید کا بچپن (Sir Syed ka bachpan) 2026-27

0
سرسید کا بچپن
لفظ و معنی :
لفظ معنی
ناظرین ناظر کی جمع ، دیکھنے والے
اکتساب کسب کرنا، محنت کر کے حاصل کرنا
نشوونما ترقی ، بڑھوتری
ذکی ذہین، تیز دماغ والا
طباع جس کی طبیعت میں ایچ ہو
صریح امتیاز فرق جو ظاہر ہو، کھلا ہوا فرق
قوا قوتیں ( یہاں صلاحیتیں مراد ہے )
فی الواقع در اصل
اجلافوں اجلاف، جلف کی جمع ، نچلے طبقے کے لوگ
اشرافوں اشراف ، شریف کی جمع ، اعلا خاندان والے
سر بر آوردہ معزز، ذمہ دار
غول بھیڑ ، ہجوم ، بہت سے لوگ
ملک بطور معافی عطا کی ہوئی زمین کی ملکیت
مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے یہ مشہور کہاوت ہے، اپنے آبائی کام سے ہر کوئی واقف ہوتا ہے۔
تقصیر کوتاہی ، قصور، غلطی
ہکا بکا ہونا حیران رہ جانا، حیرت زدہ
بسم اللہ اس تقریب کا نام جس میں بچوں کو قرآن پڑھا نیکی ابتدا کی جاتی ہے، اللہ کے نام سے شروع
اقرا سے مالم یعلم قرآن مجید کی سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں قرآن مجید کی یہ آیتیں سب سے پہلے نازل ہوئی تھیں
الا ما شاء اللہ مگر جو چاہا اللہ نے ، مراد کبھی کبھی
غایت غرض ، مطلب
قرآن ناظرہ پڑھنا ناظرہ ، قرآن شریف دیکھ کر پڑھنا
سال جلوس کسی بادشاہ کی تخت نشینی کا سال
سوالوں کے جواب لکھیے :
  • 1. سرسید نے اپنا بچپن کیسے گزارا ؟
    سرسید کا بچپن بہت سے ہم عمر رشتہ دار بچوں (نانا اور خالہ کے بچوں) کے ساتھ کھیلتے کودتے گزرا۔ ان پر نہ تو کھیلنے کی مکمل پابندی تھی اور نہ ہی آوارہ گردی کی کھلی چھوٹ تھی۔ وہ بزرگوں کی اجازت سے ان کے سامنے ہر قسم کے کھیل کھیلتے تھے، اور انہیں اکیلے گھر سے باہر جانے یا آوارہ لڑکوں سے ملنے جلنے کا موقع نہیں ملا۔
  • 2. سرسید کے نانا کے یہاں دستر خوان کے آداب کیا تھے؟
    ان کے نانا زنانہ خانے میں دسترخوان بچھوا کر تمام بچوں (نواسے، پوتوں وغیرہ) کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ ہر بچے کے سامنے رکابی رکھی جاتی اور نانا صاحب خود چمچے سے ان کی پسند کی چیز پیش کرتے تھے۔ دسترخوان کے اہم آداب یہ تھے کہ کھانا گرے نہیں، ہاتھ زیادہ نہ بھریں، اور منہ سے چبانے کی آواز نہ نکلے۔
  • 3. سرسید نے بچپن میں کون کون سے کھیل کھیلے؟
    سرسید نے اپنے ہمجولیوں کے ساتھ ابتدا میں اکثر گیند، بلا، کبڈی، گیڑیاں، آنکھ مچولی اور چپل چلو وغیرہ کھیلے۔
  • 4. سرسید کو گاؤں میں جاکر رہنا کیوں پسند تھا؟
    سرسید کو گاؤں (مغل پور) میں رہنا اس لیے پسند تھا کیونکہ وہاں جنگل میں گھومنے پھرنے کا موقع ملتا تھا، اور انہیں عمدہ دودھ، دہی، تازہ گھی اور جاٹنیوں کے ہاتھ کی پکی ہوئی باجرے یا مکئی کی روٹیاں کھانے میں بہت مزہ آتا تھا۔
عملی کام :
  • 1. ماں بی بی اور سرسید کے تعلق کو اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
    ماں بی بی سرسید کے گھرانے کی ایک قدیم خیر خواہ خادمہ تھیں جنہوں نے سرسید کو پالا تھا اور سرسید ان سے بے حد محبت کرتے تھے۔ سرسید جب پانچ برس کے تھے تو ان کا انتقال ہو گیا، جس کا سرسید کو گہرا دکھ تھا۔ والدہ کے سمجھانے پر کہ ماں بی بی اللہ کے پاس آرام سے ہیں، سرسید کو تسلی ہوئی اور انہیں یقین تھا کہ خیرات کا کھانا ماں بی بی تک پہنچتا ہے۔ ماں بی بی نے اپنا سارا زیور بھی سرسید کے نام کر دیا تھا، جسے سرسید نے بخوشی خیرات کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
  • 2. اس مضمون میں جن کتابوں کے نام آئے ہیں انھیں اپنی کاپی میں لکھیے ۔
    مضمون میں درج ذیل کتابوں کے نام آئے ہیں:
    • حیات سعدی
    • یادگار غالب
    • حیات جاوید
    • مد و جزر اسلام (مسدس حالی)
    • مناجات بیوہ
    • مقدمہ شعر و شاعری
    • کریما
    • خالق باری
    • آمد نامہ
    • گلستاں
    • بوستاں
    • تحریر اقلیدس کے مقالے

📄 Download or view this worksheet/page:

కామెంట్‌ను పోస్ట్ చేయండి

0 కామెంట్‌లు

Top Post Ad

Bottom Post Ad

Show ad in Posts/Pages