Type Here to Get Search Results !

AP 10th Urdu Textbook solutions 6. چوری اور اس کا کفارہ (chori aur us ka kaffara) 2026-27

0
چوری اور اس کا کفارہ
لفظ و معنی :
لفظ معنی
کفارہ گناہ یا قصور کا بدلہ جو قصور وار کی طرف سے ادا ہو
قلبی دوست دلی دوست ، بہت قریبی دوست
متنبہ کیا خبر دار کیا ، آگاہ کیا
عذر معذرت کسی قصور یا کمی کی صفائی کے طور پر جو بات کہی جائے
تردد پریشانی، الجھن
توجیہہ وجہ بیان کرنا ، دلیل دینا
ایک جان دو قالب انتہائی دوستی ، گو یا جسم دو ہیں لیکن جان ایک
لغزش غلطی ، بھول چوک، گمراہی
مسامات جلد کے باریک سوراخ جن سے پسینہ نکلتا ہے
زہر قاتل وہ زہر جس کے کھانے سے انسان مر جائے ، مہلک زہر
مرتکب کام میں ہاتھ ڈالنا ، قصور وار
صاحب فراش وہ بیمار جو بستر سے نہ اُٹھ سکے
اہنسا اہنسا ، خون خرابے اور توڑ پھوڑ میں یقین نہ رکھنا یا ان باتوں پر عمل نہ کرنا ، عدم تشدد
ہمہ گیر جو سب پر چھایا ہو
عفو معافی ، در گذر
سوالوں کے جواب لکھیے :
  • 2. انسان پر بہ نسبت نیکی کے بدی کا اثر جلد پڑتا ہے ، ایسا کیوں ؟ واضح کیجیے۔
    انسان کی فطرت میں کمزوریاں موجود ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ برائی کی طرف جلدی مائل ہو جاتا ہے۔ گاندھی جی کے مطابق، انسان پر نیکی کی بہ نسبت بدی کا اثر جلد پڑتا ہے، اس لیے کسی ایک شخص سے 'ایک جان دو قالب' ہو جانے سے پرہیز کرنا چاہیے اور جو خدا کا دوست بننا چاہے اسے اکیلا رہنا چاہیے یا ساری دنیا سے دوستی کرنی چاہیے۔
  • 3. مہاتما گاندھی نے اپنی غلطیوں کے کفارے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا ؟
    مہاتما گاندھی نے اپنی چوری کے اعتراف اور کفارے کے لیے ایک اعتراف نامہ (رقعہ) لکھا۔ انہوں نے اس میں اپنے جرم کا اقرار کیا، مناسب سزا کی درخواست کی اور یہ پختہ عہد کیا کہ وہ آئندہ کبھی چوری نہیں کریں گے۔ یہ اعتراف نامہ انہوں نے خود لے جا کر اپنے بیمار والد کے ہاتھ میں دیا۔
  • 4. گاندھی جی کا اعتراف نامہ پڑھ کر ان کے والد پر کیا اثر ہوا ؟
    گاندھی جی کا اعتراف نامہ پڑھ کر ان کے والد کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور موتیوں کے قطرے ٹپ ٹپ ان کے رخساروں پر اور کاغذ پر گرنے لگے۔ وہ کچھ دیر آنکھیں بند کر کے سوچتے رہے اور پھر رقعہ پھاڑ کر پھینک دیا۔ اس سچے اعتراف سے ان کے والد کو گاندھی جی کی طرف سے پورا اطمینان ہو گیا اور ان کی محبت میں بے انتہا اضافہ ہو گیا۔
عملی کام :
  • 1. ایک مضمون لکھیے۔ ”چوری ایک بری عادت ہے۔“
    چوری ایک انتہائی بری اور غیر اخلاقی عادت ہے جو انسان کے کردار کو تباہ کر دیتی ہے۔ جب کوئی شخص چوری کرتا ہے تو وہ نہ صرف دوسروں کا حق مارتا ہے بلکہ اپنا ضمیر بھی کھو دیتا ہے۔ چوری کرنے والے شخص کا معاشرے میں کوئی وقار نہیں رہتا اور لوگ اس پر اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ گاندھی جی کے واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم سے کوئی غلطی یا چوری ہو جائے تو ہمیں دلی طور پر اس کا اعتراف کر کے توبہ کرنی چاہیے اور آئندہ کے لیے اس بری عادت سے بچنے کا پختہ عہد کرنا چاہیے۔ سچائی اور ایمانداری ہی انسان کو دلی سکون اور معاشرے میں عزت دلاتی ہے۔
  • 2. گاندھی جی کی زندگی سے متعلق کتابیں حاصل کر کے ان کا مطالعہ کیجیے۔
    طلبہ اپنے اسکول کی لائبریری یا انٹرنیٹ کی مدد سے مہاتما گاندھی کی زندگی پر لکھی گئی کتابیں جیسے "تلاش حق" (My Experiments With Truth) اور دیگر سوانح حیات حاصل کر کے ان کا مطالعہ کریں۔

📄 Download or view this worksheet/page:

కామెంట్‌ను పోస్ట్ చేయండి

0 కామెంట్‌లు

Top Post Ad

Bottom Post Ad

Show ad in Posts/Pages