سوالوں کے جواب لکھیے :
-
1. آئی ہیں ۔ ایس بننے کے بعد وحید میں کیا تبدیلی آئی؟
آئی۔ سی۔ ایس بننے کے بعد وحید کی شخصیت میں ایک عظیم انقلاب آ گیا تھا۔ اس کا بچپن کا اکھڑ پن، گنوار پن، بد تہذیبی اور دیہاتی پن ختم ہو گیا اور ان کی جگہ متانت، سنجیدگی، خودداری، وقار، خوش مزاجی اور معاملہ فہمی نے لے لی۔ اس کے لباس اور رہن سہن میں مکمل تبدیلی آ گئی اور وہ ایک مہذب اور شائستہ انسان بن گیا۔
-
2. گاؤں پہنچنے سے پہلے وحید کی کیا کیفیت تھی ؟
گاؤں پہنچنے سے پہلے وحید شدید پس و پیش اور ذہنی کشمکش کا شکار تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس کے دیہاتی والدین نے بیگم کے شایان شان کوئی انتظام کیا بھی ہو گا یا نہیں۔ اسے ڈر تھا کہ اس کی تعلیم یافتہ اور رئیس بیوی کو اس کے گھر والوں کی پرانے خیالات کی پابندی اور دیہاتی پن پسند آئے گا یا نہیں۔ اسے ہر طرف دشواریاں ہی دشواریاں دکھائی دے رہی تھیں اور وہ سوچ رہا تھا کہ ان دونوں مختلف ماحولوں کا آپس میں کیا جوڑ بیٹھے گا۔
-
3. پودے ایک زمین سے نکال کر دوسری زمین میں لگا دینے سے اپنی نوعیت اور جنس نہیں بدل دیتے ۔ اس فقرے کی وضاحت کیجیے۔
اس فقرے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی اصل فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ اگرچہ وہ نئے ماحول میں جا کر نئے طور طریقے اور عادات اپنا لیتا ہے، لیکن اس کی بنیادی خصوصیات اور جڑیں وہی رہتی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ایک پودے کو دوسری جگہ لگانے سے وہ کوئی اور پودا نہیں بن جاتا، بلکہ اپنی ہی جنس کا رہتا ہے۔ اسی طرح وحید نے شہر میں جا کر تہذیب تو سیکھ لی تھی، لیکن اس کے اندر کا دیہاتی پن اور سادگی ختم نہیں ہوئی تھی۔
-
4. بہو بیگم کے کردار کی خوبیاں بیان کیجیے۔
بہو بیگم آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ اور ایک رئیس گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود انتہائی سلجھی ہوئی، مخلص اور سمجھدار خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنی سسرال والوں کے دیہاتی پن اور افلاس کی پرواہ کیے بغیر ان سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ وہ سب کے لیے ان کی پسند کے مطابق تحائف لے کر گئیں اور ساس کے احکامات کو خوشی سے بجا لائیں۔ ان میں غرور بالکل نہیں تھا اور وہ سب کے ساتھ بہت احترام اور سادگی سے پیش آئیں۔
📄 Download or view this worksheet/page: