تصویر دیکھیے ۔ گفتگو کیجیے (صفحہ نمبر 21)
-
1. یہ کس ملک کا خاکہ ہے؟
یہ ہمارے ملک بھارت کا خاکہ ہے۔
-
2. تصویر میں کون کون نظر آرہے ہیں؟
تصویر میں مہاتما گاندھی اور دیگر رہنما نظر آرہے ہیں۔
-
3. ہندوستان کی آزادی کے چند قومی رہنماؤں کے نام بتائیے؟
مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لعل نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل۔
سننا ۔ سمجھنا ۔ بولنا (صفحہ نمبر 23)
(الف) ان سوالات کے زبانی جواب دیجیے
-
1. باپوجی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
باپوجی (مہاتما گاندھی) نے ہمیں سچائی اور عدم تشدد کا درس دیا۔
-
2. ہمیشہ سچائی کے راستے پر کیوں چلنا چاہیے؟
سچ بولنے سے اللہ اور اس کے رسول راضی ہوتے ہیں اور زندگی میں سکون ملتا ہے۔
-
3. باپوجی نے ہمیں کن باتوں کی تعلیم دی ہے؟
باپوجی نے سچ بولنے، سچائی کے راستے پر چلنے اور آپس میں اتفاق سے رہنے کی تعلیم دی۔
-
4. اس نظم میں چار مذاہب والوں کے نام دیے گئے ہیں؟ وہ کون سے ہیں؟
ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی۔
-
5. "اہنسا" سے کیا مراد ہے؟
اہنسا سے مراد تشدد نہ کرنا یا امن و امان سے رہنا ہے۔
پڑھنا۔ اظہار خیال کرنا (صفحہ نمبر 23 - 24)
(ب) ذیل میں دیے گئے اشعار کے مصرعے بے ترتیب ہیں۔ نظم پڑھیے، بے ترتیب مصرعوں کو ترتیب دیجیے۔
-
1. سچی بات ہمیشہ کہنا / سچائی کے رستے چلنا
سچی بات ہمیشہ کہنا، سچائی کے رستے چلنا
-
2. ہندو مسلم سکھ عیسائی / آپس میں ہیں بھائی بھائی
ہندو مسلم سکھ عیسائی، آپس میں ہیں بھائی بھائی
-
3. ہم کو پیاری وطن کی مٹی / دشمن کی ہم کریں گے چھٹی
ہم کو پیاری وطن کی مٹی، دشمن کی ہم کریں گے چھٹی
(ج) ذیل میں دیے گئے بند پڑھیے، سوالات کے صحیح جواب منتخب کر کے قوسین میں لکھیے۔
-
1. بچوں کو کس نے سمجھایا ہے؟ (c)
Answer: (c) باپوجی
-
2. کس چیز سے محبت کا اظہار ہو رہا ہے؟ (b)
Answer: (b) وطن کی مٹی سے
-
3. نظم کا بنیادی پیغام کیا ہے؟ (c)
Answer: (c) سچائی اور امن
-
4. اس نظم کو کس نے لکھا ہے؟ (c)
Answer: (c) سیدہ فرحت
لفظیات (صفحہ نمبر 25)
(الف) نظم میں موجود تین، چار اور پانچ حرفی الفاظ تلاش کر کے لکھیے۔
-
تین حرفی الفاظ:
بات، سب، دیس
-
چار حرفی الفاظ:
مٹی، پیار، امن
-
پانچ حرفی الفاظ:
باپوجی، سچائی
(ب) دیے گئے الفاظ کی جمع لکھیے۔
| واحد | Ans |
|---|---|
| لڑکا | لڑکے |
| گاڑی | گاڑیاں |
| دروازہ | دروازے |
(ج) متضاد الفاظ لکھیے۔
| لفظ | Ans |
|---|---|
| آسمان | زمین |
| دشمن | دوست |
| اندر | باہر |
| خوبصورت | بدصورت |
از خود لکھنا (صفحہ نمبر 25)
-
1. نظم کا عنوان کیا ہے؟
نظم کا عنوان "باپوجی" ہے۔
-
2. نظم میں باپوجی نے کیا سمجھایا ہے؟
باپوجی نے سچ بولنے اور سچائی کے راستے پر چلنے کا سمجھایا ہے۔
-
3. باپوجی نے ہمیں سچائی کے بارے میں کیا نصیحت کی؟
ہمیشہ سچی بات کہنے اور سچائی کے راستے پر قائم رہنے کی نصیحت کی۔
-
4. نظم میں وطن کی مٹی کے بارے میں کیا کہا گیا؟
نظم میں کہا گیا ہے کہ ہم کو وطن کی مٹی پیاری ہے اور ہم اس کے دشمن کی چھٹی کر دیں گے۔
-
5. باپوجی کی تعلیمات بچوں کے لیے کیوں ضروری ہیں؟ نظم کی روشنی میں وضاحت کیجیے۔
کیونکہ یہ بچوں میں سچائی، حب الوطنی اور آپس میں محبت کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔
-
6. نظم "باپوجی" کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔
اس نظم میں مہاتما گاندھی کی تعلیمات کو بیان کیا گیا ہے کہ ہمیں ہمیشہ سچ بولना چاہیے، امن سے رہنا چاہیے اور اپنے وطن کی حفاظت کرنی چاہیے۔
زبان شناسی (صفحہ نمبر 27)
د دیے گئے سوالات کے صحیح جواب قوسین میں لکھیے۔
-
1. وہ آوازیں جو کسی رکاوٹ کے بغیر منھ سے ادا ہوتی ہیں، وہ کیا کہلاتی ہیں؟ A
Answer: (A) مصوتے
-
2. وہ آوازیں جو ہونٹوں، دانتوں یا زبان کی رکاوٹ سے ادا نہیں ہوتیں، کیا کہلاتی ہیں؟ C
Answer: (C) مصمتے
میں نے کیا سیکھا؟ (صفحہ نمبر 30)
-
1. نیچے دیے گئے الفاظ میں پانچ حروفی لفظ کی نشان دہی کیجیے۔ a
Answer: (a) سمجھایا
-
2. سچی بات ہمیشہ کہنا یہ جملہ کس نے کہا؟ b
Answer: (b) شاعرہ (سیدہ فرحت)
ذیل کی عبارت پڑھ کر دیے گئے سوالات کے جواب دیجیے۔
-
(الف) اس کہانی میں مستقبل کی جاندار کون ہے؟ b
Answer: (b) چیونٹی
-
(ب) ٹڈا بھوک سے کیوں تڑپنے لگا؟ اس کہانی سے آپ نے کیا سیکھا؟
ٹڈے نے محنت نہیں کی تھی اور کھانا جمع نہیں کیا تھا۔ اس کہانی سے ہم نے سیکھا کہ محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
-
3. تحریک آزادی کے مشہور مجاہدین آزادی کی تعریف میں چار جملے لکھیے۔
مجاہدین آزادی نے ملک کی خاطر بڑی قربانیاں دیں۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف پرامن تحریکیں چلائیں۔ گاندھی جی اور نہرو جیسے رہنماؤں نے ملک کو آزاد کرایا۔ ہم ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔
-
4. آپ کے پسندیدہ قومی رہنما کے بارے میں دو جملے لکھیے۔
مہاتما گاندھی ہمارے پسندیدہ رہنما ہیں۔ انہوں نے ملک کو عدم تشدد کے راستے پر چلا کر آزادی دلائی۔
-
5. اپنے علاقہ کے ان لوگوں کے بارے میں معلوم کر کے لکھیے جنہوں نے آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔
ہمارے علاقے کے بزرگوں نے بھی آزادی کی لڑائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جیل کی سزائیں کاٹیں۔