سوچیے اور بولیے (صفحہ 50)
-
1. تصویر میں آپ کو کیا دکھائی دے رہا ہے؟ اس کے بارے میں بتائیے۔
تصویر میں اسکول کے احاطے میں قومی پرچم (ترنگا) لہرایا جا رہا ہے اور طلبہ و اساتذہ احترام کے ساتھ پرچم کو سلامی دے رہے ہیں۔
-
2. دوسری تصویر میں طلبہ کیا کر رہے ہیں؟ بتلائیے۔
طلبہ صفوں میں کھڑے ہو کر باقاعدہ انداز میں قومی پرچم کو سلامی پیش کر رہے ہیں۔
-
3. کن موقعوں پر ہم جھنڈے کو سلامی پیش کرتے ہیں اور قومی ترانہ گاتے ہیں؟
ہم یوم جمہوریہ (26 جنوری)، یوم آزادی (15 اگست) اور دیگر قومی تقریبات کے موقع پر جھنڈے کو سلامی پیش کرتے ہیں اور قومی ترانہ گاتے ہیں۔
-
4. وہ ترانہ جو حب الوطنی پر لکھا جائے، اسے کیا کہتے ہیں؟
جو ترانہ حب الوطنی پر لکھا جائے اسے قومی ترانہ یا ملی نغمہ / ترانہ وطن کہتے ہیں۔
یہ کیجیے - پڑھنا، سمجھنا (صفحہ 53-55)
I. نظم میں کون سی عمارت اور کسی پہاڑ کا ذکر کیا گیا ہے؟
-
1. نظم میں کس عمارت اور پہاڑ کا ذکر ہے؟
نظم میں "تاج محل" عمارت کا اور "ہمالیہ" پہاڑ کا ذکر کیا گیا ہے۔
-
2. ہندوستان کے وہ کون سے مشہور ہستیاں ہیں جن کا نام اس نظم میں لیا گیا ہے؟
اس نظم میں ٹیگور، میر، نانک اور گوتم بدھ جیسی مشہور ہستیوں کا نام لیا گیا ہے۔
-
3. نظم ترانہ وطن کو خوش الحانی و ترنم سے پڑھیں۔
(یہ طلبہ کی عملی مشق کے لیے ہے، اسے ترنم سے پڑھا جائے۔)
II. A) درج ذیل عبارت پڑھیے اور سوالات کے جواب لکھیے۔
-
1. احمد کون تھا اور کس جماعت میں زیر تعلیم تھا؟
احمد وجے واڑہ کا ایک غریب طالب علم تھا جو جماعت ہشتم میں زیر تعلیم تھا۔
-
2. احمد کس بات پر یقین رکھتا تھا؟
احمد ہمیشہ سچائی اور ایمانداری پر یقین رکھتا تھا۔
-
3. بٹوہ میں کیا کیا تھا؟
بٹوے میں روپے اور شناختی کارڈ تھا۔
-
4. احمد کے دوستوں نے اسے کیا مشورہ دیا؟
احمد کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ وہ بٹوے میں موجود روپے اپنے پاس رکھ لے، کسی کو کیا معلوم ہو گا۔
-
5. اس کہانی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک اچھا ہندوستانی شہری وہی ہے جو غریب ہونے کے باوجود سچائی اور دیانت داری کا دامن کبھی نہ چھوڑے۔
II. B) دی گئی مثال کے مطابق مندرجہ ذیل الفاظ سے نئے الفاظ بنائیے۔
- 1. چارہ - چارہ گر - چارہ گری
II. C) گیت کے بند میں دیے گئے مناسب الفاظ سے خالی جگہوں کو پر کیجیے۔
- 1. تیری دھرتی کو جھک جھک کے چومے گگن۔ زندہ باد اے وطن!
- 2. تیرے ذروں میں ہیں چاند سورج مگن۔ زندہ باد اے وطن!
- 3. تیری ندیوں میں امرت کی موجیں رواں
- 4. تیری جھیلوں میں آب شفا کا سماں
- 5. تیری نہروں میں ہے دولت دو جہاں
II. D) مندرجہ ذیل سوالوں کے ایک لفظ میں جواب لکھیے۔
-
1. گیت "ترانہ وطن" کے شاعر کون ہیں؟
بیکل اتساہی
-
2. ہمالیہ کی بلندی کس کو چومتی ہے؟
فلک (آسمان)
-
3. کشمیر کی خوبصورتی میں کس کی جھلک نظر آتی ہے؟
خلد (جنت)
-
4. کس کی بزم میں چراغ روشن ہیں؟
خواجہ معین الدین چشتی
-
5. ہندوستان کی مٹی کس چیز کا خزانہ ہے؟
لعل اور جواہر
از خود لکھنا (صفحہ 55)
III. A) دیے گئے سوالات کے 4 یا 5 جملوں میں جواب لکھیے۔
-
1. گیت کسے کہتے ہیں؟ گیت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیجیے۔
گیت بنیادی طور پر غزل کی طرح ایک داخلی اور غنائی سخن ہے۔ اس میں کئی بند ہوتے ہیں اور ہر بند کے بعد گیت کا پہلا مصرع دہرایا جاتا ہے جسے ٹیپ کا مصرع کہتے ہیں۔ گیتوں کی بنیاد عموماً ہندی بحروں پر ہوتی ہے اور اردو ادب میں امیر خسرو نے گیتوں کی بنیاد ڈالی تھی۔
-
2. اس گیت میں ہمالیہ اور کشمیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیجیے۔
شاعر نے ہمالیہ اور کشمیر کے ذکر کے ذریعے ملک کے قدرتی حسن کو اجاگر کیا ہے۔ ہمالیہ کی بلندی ملک کے وقار کو ظاہر کرتی ہے جبکہ کشمیر کی خوبصورتی اس طرح دل کو لبھاتی ہے جیسے وہ جنت کی کوئی جھلک ہو۔ یہ مقامات ہمارے ملک کی شان اور خوبصورتی کی علامت ہیں۔
-
3. بیکل اتساہی اس گیت کے ذریعے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
بیکل اتساہی اس گیت کے ذریعے طلبہ اور عوام میں حب الوطنی، قومی یکجہتی، امن، اور بھائی چارگی کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا وطن دنیا کا سب سے حسین اور عظمت والا وطن ہے، جس کی مٹی میں تمام مذاهب اور بزرگوں کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔
III. B) دیے گئے سوالات کے 8 یا 10 جملوں میں جواب لکھیے۔
-
1. گیت "ترانہ وطن" کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔
بیکل اتساہی کی لکھی ہوئی نظم "ترانہ وطن" وطن کی عظمت، محبت اور اس کے حسن کا ایک حسین مرقع ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہمارے وطن کی دھرتی کو آسمان بھی جھک کر چومتا ہے اور اس کے ذروں میں چاند سورج مگن ہیں۔ اس کی ندیاں، جھیلیں، جھرنے اور نہریں آبِ حیات اور دولت سے مالا مال ہیں۔ یہاں ہمالیہ کی بلندی، کشمیر کا حسن، تاج محل کی چمک اور اجنتا کے فنونِ لطیفہ ملک کی شان کو بڑھاتے ہیں۔ شاعر ٹیگور کے گیتوں، میر کی غزلوں، اور نانک و گوتم بدھ کےتعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ یہ دھرتی امن، وحدت اور اخلاق کا گہوارہ ہے۔ اس کے کھیت موتیوں جیسے اور کھلیان ہیروں سے بھرے ہیں، اور اس کی مٹی لعل و جواہر کا خزانہ ہے۔
-
2. اس گیت میں ٹیگور، میر، نانک اور گوتم بدھ کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ تفصیل سے بیان کیجیے۔
اس گیت میں ان عظیم شخصیات کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہ سب ہندوستان کی تہذیبی، ادبی اور روحانی میراث کے روشن ستارے ہیں۔ ٹیگور نے اپنی شاعری سے ادب کو مالا مال کیا اور میر نے عشق و محبت کی غزلیں کہیں، جو ہمارے ملک کی ادبی عظمت کو ظاہر کرتی ہیں۔ اسی طرح گرو نانک دیو نے لوگوں کو وحدت (توحید و بھائی چارگی) کا احساس دلایا اور گوتم بدھ نے دنیا کو اہنسا (امن و عدم تشدد) کا درس دیا۔ ان تمام شخصیات نے اس دھرتی کو اپنے افکار و نظریات سے منور کیا اور پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کیا، اسی نسبت سے شاعر نے ان کا ذکر اس ترانے میں کیا ہے۔
لفظیات (صفحہ 55-56)
IV. A) درج ذیل دیے گئے جملے پڑھیے اور صحیح جواب منتخب کر کے قوسین میں لکھیے۔
-
1. لفظ کندن کے معنی کیا ہیں؟ ( C )
C. سونا
-
2. خلد کی ایک جھلک کسے کہا گیا ہے؟ ( B )
B. حسن کشمیر
-
3. اردو ادب میں سب سے پہلے کس نے گیتوں کی روایت ڈالی؟ ( A )
A. امیر خسرو
-
4. کس کو سرحدی گاندھی کہا جاتا ہے؟ ( D )
D. خان عبد الغفار خان
-
5. گیت ترانہ وطن کس موضوع پر لکھا گیا ہے؟ ( C )
C. حب الوطنی
-
6. نظم "ترانہ وطن" کو کس شاعر نے لکھا؟ ( A )
A. بیکل اتساہی
قواعد - زبان شناسی (صفحہ 56-58)
III. A) ذیل کے جدول میں دیے گئے الفاظ کی مدد سے فعل ماضی، فعل حال اور فعل مستقبل پر مبنی جملے تشکیل دیجیے۔
| الفاظ | فعل ماضی | فعل حال | فعل مستقبل |
|---|---|---|---|
| 1. شاکر — بریانی | شاکر نے بریانی کھائی۔ | شاکر بریانی کھا رہا ہے۔ | شاکر بریانی کھائے گا۔ |
| 2. حمیرہ — چائے | حمیرہ نے چائے پی۔ | حمیرہ چائے پینا رہی ہے / پی رہی ہے۔ | حمیرہ چائے پئے گی۔ |
| 3. گھوڑے — دوڑ | گھوڑے دوڑے تھے۔ | گھوڑے دوڑ رہے ہیں۔ | گھوڑے دوڑیں گے۔ |
| 4. طاہر — اسکول | طاہر اسکول گیا تھا۔ | طاہر اسکول جا رہا ہے۔ | طاہر اسکول جائے گا۔ |
| 5. کرسی — بیٹھ | وہ کرسی پر بیٹھا تھا۔ | وہ کرسی پر بیٹھا ہے۔ | وہ کرسی پر بیٹھے گا۔ |
| 6. خالد — خط | خالد نے خط لکھا تھا۔ | خالد خط لکھ رہا ہے۔ | خالد خط لکھے گا۔ |
| 7. لڑکے — کھیل | لڑکوں نے کھیلا تھا۔ | لڑکے کھیل رہے ہیں۔ | لڑکے کھیلیں گے۔ |
III. B) ذیل کے جملے پڑھ کر فعل کے اقسام کی نشاندہی کیجیے۔
- 1. اکبر اسکول جائے گا۔ ( فعل مستقبل )
- 2. صابرہ دوڑی۔ ( فعل ماضی )
- 3. محمود پڑھ رہا ہے۔ ( فعل حال )
- 4. فیاض نے خط لکھا۔ ( فعل ماضی )
- 5. شافعہ کھیل رہی ہے۔ ( فعل حال )
- 6. احسان اللہ گڑھ پر آئے گا۔ ( فعل مستقبل )
- 7. جیلان نظم یاد کر رہا ہے۔ ( فعل حال )
- 8. پنکھا گھوم رہا تھا۔ ( فعل ماضی )
- 9. شاکر نماز پڑھتا ہے۔ ( فعل حال )
- 10. گھنٹی بجی۔ ( فعل ماضی )
III. C) درج ذیل دیے گئے جملوں کو پڑھیے اور صحیح جواب منتخب کر کے قوسین میں لکھیے۔
-
1. وہ فعل جس کا کرنا یا ہونا گزرے ہوئے زمانے میں واقع ہوا ہو، کیا کہلاتا ہے؟ ( B )
B. فعل ماضی
-
2. وہ کام جو موجودہ زمانے میں جاری رہے، کیا کہلاتا ہے؟ ( B )
B. فعل حال
-
3. وہ کام جو آئندہ زمانے میں ہو گا، کیا کہلاتا ہے؟ ( A )
A. فعل مستقبل
-
4. "فاطمہ پڑھ کر ڈاکٹر بنے گی" یہ جملہ کس زمانہ سے تعلق رکھتا ہے؟ ( C )
C. فعل مستقبل
-
5. "بارش ہوئی" اس جملہ کا تعلق کس زمانہ سے ہے؟ ( D )
D. فعل ماضی
📄 Download or view this worksheet/page: