سوچیے اور بولیے (صفحہ 60)
-
1. دی گئی عبارت کس کے متعلق ہے؟
دی گئی عبارت خلفائے راشدین کے دور اور خاص طور پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سادگی، عدل و انصاف اور ان کے طرزِ حکمرانی کے متعلق ہے۔
-
2. خلیفہ کسے कहते हैं (کیسے کہتے ہیں)؟
خلیفہ اس حاکم یا سربراہ کو کہتے ہیں جو اسلامی اصولوں اور شریعت کے مطابق حکومت چلاتا ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔
-
3. حضرت عمر فاروق کی زندگی کیسی تھی؟
حضرت عمر فاروق کی زندگی بے انتہا سادہ تھی۔ وہ معمولی سا لباس اور سادہ غذا استعمال کرتے، کچے مکان یا مسجد کے فرش پر آرام کرتے، اور تقویٰ، پرہیزگاری اور عدل و انصاف کا بہترین نمونہ تھے۔
یہ کیجیے - پڑھنا، سمجھنا (صفحہ 63-64)
I. A) عبارت پڑھیے۔ سوالات کے جواب لکھیے۔
-
1. تیسرے خلیفہ کون ہیں؟
تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔
-
2. آپ کس خاندان سے ہیں؟
آپ قریش کے شریف اور اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
-
3. آپ بچپن ہی سے کیسے تھے؟
آپ بچپن ہی سے نہایت نیک، سچے اور پاک باز آدمی تھے اور شرم و حیا کے پیکر تھے۔
-
4. آپ کا شمار کس میں ہوتا ہے؟
آپ کا شمار سابقینِ اولین اور عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے۔
-
5. حضرت عثمان نے کس ملک کی طرف هجرت فرمائی؟
حضرت عثمان نے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی۔
I. B) اشعار پڑھ کر دیے گئے سوالات کے جواب لکھیے۔
-
1. دل میں فروتنی کو جگہ کون دیتا ہے؟
جسے دنیا میں خدا بڑا رتبہ دیتا ہے وہ دل میں فروتنی کو جگہ دیتا ہے۔
-
2. اپنی شنا آپ کون کرتا ہے؟
تہی مغز (بے عقل یا کم علم لوگ) اپنی شنا آپ کرتے ہیں۔
-
3. کون لوگ خود کی تعریف کرتے ہیں؟
جن کا ظرف خالی ہوتا ہے (یا جن میں صلاحیت نہیں ہوتی) وہ خود کی تعریف کرتے ہیں۔
-
4. خالی ظرف کے صدا دینے سے کیا مراد ہے؟
اس سے مراد یہ ہے کہ کم علم یا احمق انسان ہی زیادہ شیخی بگھارتا اور شور مچاتا ہے۔
-
5. رباعی کتنے مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے؟
رباعی چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
I. C) عبارت پڑھیے اور کوئی پانچ سوالات بنائیے۔
-
1. حضرت علی کس سن میں پیدا ہوئے؟
600 عیسوی کے آخری سال یا 601 عیسوی کے پہلے سال۔
-
2. آپ کی والدہ نے آپ کا کیا نام رکھا تھا؟
اسد۔
-
3. آپ کے والد نے کیا نام تجویز کیا؟
علی۔
-
4. حضرت علی کے کتنے مشہور القاب ہیں؟
تین مشہور القاب (اسد اللہ، مرتضیٰ، حیدر) ہیں۔
-
5. حضرت علی کو کس چیز سے سخت نفرت تھی؟
بتوں کی عبادت سے سخت نفرت تھی۔
I. D) دیے گئے سوالات کے جواب لکھیے۔
-
1. حضرت عمر بن العزیز کون تھے؟
حضرت عمر بن عبد العزیز مسلمانوں کے ایک مشہور عادل، نیک اور پرہیزگار خلیفہ تھے۔
-
2. عمر بن عبد العزیز نے کیسی زندگی گزاری؟
خلیفہ بننے کے بعد انہوں نے نہایت سادہ، پاکیزہ اور عاجزی والی زندگی گزاری۔
-
3. خدا کی تحریر کس کو کہا جاتا ہے؟
قرآن مجید کو خدا کی تحریر کہا جاتا ہے۔
-
4. جو اللہ کے احکام کے مطابق حکومت چلاتا ہے، کیا کہتے ہیں؟
اسے عادل حکمران یا خلیفہ راشد کہا جاتا ہے۔
-
5. انصاف کرنے والے کو کیا کہتے ہیں؟
منصف یا عادل کہتے ہیں۔
-
6. بیت المال کسے کہتے हैं?
بیت المال اسلامی حکومت کے اس سرکاری خزانے کو کہتے ہیں جہاں عوامی فلاح و بہبود کے لیے مال و دولت جمع کیا جاتا ہے۔
از خود لکھنا (صفحہ 65)
II. A) دیے گئے سوالات کے 4 یا 5 جملوں میں جواب لکھیے۔
-
1. حضرت عمر بن عبدالعزیز کی زندگی خلیفہ بننے کے بعد کیسے بدل گئی؟
خلیفہ بننے سے پہلے حضرت عمر بن عبد العزیز بڑی شان و شوکت اور عیش و آرام کی زندگی گزارتے تھے۔ لیکن خلیفہ بنتے ہی انہوں نے اپنے تمام شاہانہ ٹھاٹ باٹ ترک کر دیے، اپنے قیمتی لباس، سامان اور بیوی کے زیورات بیت المال میں جمع کروا دیے، اور انتہائی سادگی اور پرہیزگاری کی زندگی اپنالی۔
-
2. عید کے موقع پر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے کیوں نہیں بنوائے؟
عید کے موقع پر بچوں نے نئے کپڑوں کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ بچوں کے لیے نئے کپڑے بنوا سکوں۔ آپ انتہائی ایمانداری سے بیت المال کی حفاظت کرتے تھے اور سرکاری خزانے سے اپنے اہل و عیال کے لیے ناجائز خرچ کرنا گوارا نہیں کرتے تھے۔
-
3. اس سبق سے آپ نے کیا سیکھا؟
اس سبق سے ہم نے یہ سیکھا کہ انسان کو ہمیشہ عاجزی، سادگی، اور ایمانداری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اقتدار اور دولت عارضی چیزیں ہیں، اصل اہمیت عدل و انصاف، خدا ترسیمی، اور مخلوقِ خدا کی خدمت کی ہے۔ سرکاری امانتوں میں خیانت نہیں کرنی چاہیے اور اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
II. B) دیے گئے سوالات کے 8 یا 10 جملوں میں جواب لکھیے۔
-
1. حضرت عمر بن عبدالعزیز کی زندگی کا کوئی ایک واقعہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔
حضرت عمر بن عبد العزیز کی سادگی اور دیانت داری کا ایک مشہور واقعہ چراغ کا ہے۔ ایک رات آپ سرکاری کام میں مصروف تھے اور سرکاری چراغ جل رہا تھا کہ اتنے میں ایک ملاقاتی خیریت دریافت کرنے کے لیے آ گیا۔ آپ نے فوراً سرکاری چراغ بجھا دیا اور اپنا ذاتی چراغ منگوا کر جلایا، کیونکہ سرکاری چراغ ذاتی یا عام گفتگو کے لیے استعمال کرنا آپ کے نزدیک خیانت کے برابر تھا۔ اسی طرح ایک بار رات کے وقت چراغ کی بتی ٹھیک کرنے کے لیے مہمان نے اٹھنا چاہا تو آپ نے خود اٹھ کر زیتون کے تیل سے چراغ درست کیا اور فرمایا کہ مہمان سے کام لینا مناسب نہیں۔ یہ واقعات آپ کی بے مثال سادگی اور انصاف پسندی کو ظاہر کرتے ہیں۔
-
2. خلیفہ بننے کے بعد آپ کس طرح کی زندگی گزارتے ہیں اپنے الفاظ میں لکھیے۔
خلیفہ بننے کے بعد حضرت عمر بن عبد العزیز نے شاہانہ شان و شوکت کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا۔ آپ بہت ہی سادہ لباس پہنتے، معمولی اور سادہ غذا کھاتے، اور ایک کچے مکان میں بسر اوقات کرتے تھے۔ آپ کے اہل خانہ نے بھی اسی سادگی کو اپنایا۔ آپ نے بیت المال کو امانت سمجھا اور اس میں سے ذاتی ضرورت کے لیے ایک دھیلا بھی لینا پسند نہیں کیا۔ عیسائیوں، یہودیوں اور عام رعایا کے ساتھ آپ کا رویہ مساوات اور انصاف پر مبنی تھا۔ آپ نے ظلم و ستم کا خاتمہ کیا، سرائیں بنوائیں، اور معاشرے میں امن و امان کا ایسا ماحول قائم کیا کہ لوگ زکوٰۃ لینے والے محتاج تک نہیں ڈھونڈ پاتے۔
-
3. بیت المال کسے کہتے ہیں آپ اپنے الفاظ میں لکھیے؟
بیت المال اسلامی حکومت کے اس مرکزی خزانے یا ادارے کو کہتے ہیں جہاں ریاست کی آمدنی، جیسے ٹیکس، غنائم، اور زکوٰۃ کا مال جمع ہوتا ہے۔ اس خزانے کا مقصد غریبوں، یفاوں، بیواؤں، مسکینوں کی مالی امداد کرنا، سڑکیں، سرائیں اور تعلیمی ادارے بنانا، اور ریاست کے تمام فلاحی کام انجام دینا ہوتا ہے۔ خلیفہ یا حکمران اس کا مالک نہیں بلکہ امین ہوتا ہے، اور اسے یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ اس مال کو ذاتی عیش و آرام یا اپنے رشتہ داروں پر ناجائز طور پر خرچ کرے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز اس معاملے میں انتہائی سخت احتیاط برتتے تھے۔
لفظیات (صفحہ 65-67)
III. A) سبق پڑھیے اور بتائیے کہ درج ذیل جملے کس نے کس سے کہے۔
-
1. میرے پاس اتنی رقم کہاں ہے کہ بچوں کے لیے نئے کپڑے بنوا سکوں۔
یہ جملہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنی اہلیہ (فاطمہ) سے کہا تھا۔
-
2. عباس نے میری زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے۔
یہ جملہ ایک عیسائی نے دربار میں خلیفہ (حضرت عمر بن عبد العزیز) سے کہا تھا۔
-
3. میں خود اٹھ کر چراغ ٹھیک کر دوں۔
یہ جملہ مہمان نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے کہا تھا۔
-
4. یہ زمین مجھ کو خلیفہ ولید نے بطور جاگیر عنایت کی تھی۔
یہ جملہ عباس نے خلیفہ (حضرت عمر بن عبد العزیز) سے کہا تھا۔
-
5. قیمت کی ضرورت نہیں۔ ہمارے لیے تو یہ امر برکت کا باعث ہوگا۔
یہ جملہ عیسائی زمین کے مالک نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے کہا تھا۔
-
6. امیر المومنین! میں خدا کی تحریر کے مطابق فیصلہ چاہتا ہوں۔
یہ جملہ عیسائی نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے کہا تھا۔
-
7. خدا کی تحریر تیرے باپ کی تحریر پر مقدم ہے۔
یہ جملہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے عباس سے کہا تھا۔
III. B) دیے گئے واحد الفاظ کے آخر میں 'ایں' اور 'ات' بڑھا کر جمع بنائیے۔
| واحد | جمع |
|---|---|
| 1. رات | راتیں |
| 2. ضرورت | ضرورتیں |
| 3. برکت | برکتیں |
| 4. حکمت | حکمتیں |
| 5. شکایت | شکایتیں |
| 6. سلطنت | سلطنتیں |
| 7. وضاحت | وضاحتیں |
| 8. نصیحت | نصیحتیں |
III. C) دیے گئے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے مثال کے مطابق نئے الفاظ تیار کیجیے۔
| اصل لفظ | نیا لفظ |
|---|---|
| 1. عقل | عقل مندی |
| 2. درد | درد مندی |
| 3. سعادت | سعادت مندی |
| 4. حاجت | حاجت مندی |
| 5. دانش | دانش مندی |
III. D) دیے گئے الفاظ کے ساتھ 'دار' اور 'داری' جوڑتے ہوئے نئے الفاظ تیار کیجیے۔
| اصل لفظ | دار / داری کے ساتھ نئے الفاظ |
|---|---|
| 1. سمجھ | سمجھ دار، سمجھ داری |
| 2. دل | دل دار، دل داری |
| 3. جاگیر | جاگیر دار، جاگیر داری |
| 4. راز | راز دار، راز داری |
| 5. دیانت | دیانت دار، دیانت داری |
| 6. وفا | وفا دار، وفا داری |
| 7. ایمان | ایمان دار، ایمان داری |
| 8. رشتہ | رشتہ دار، رشتہ داری |
III. E) دیے گئے الفاظ کا جملوں میں استعمال کیجیے۔
-
1. ٹھاٹ باٹ: حضرت عمر بن عبد العزیز نے خلیفہ بننے کے بعد اپنے تمام شاہانہ ٹھاٹ باٹ ترک کر دیے۔
-
2. عادل: حضرت عمر بن عبد العزیز ایک عادل اور انصاف پسند حکمران تھے۔
-
3. مقبرہ: انہوں نے اپنے مقبرے کے لیے ایک عیسائی سے زمین خرید لی تھی۔
-
4. سند: عباس کے پاس زمین کی تحریری سند موجود تھی۔
-
5. خلافت: آپ کی خلافت کا دورانیہ صرف دو سال پانچ مہینے رہا۔
-
6. غیبت: حضرت عمر بن عبد العزیز علما سے فرماتے تھے کہ ان کے سامنے کسی کی غیبت نہ کی جائے۔
III. F) دیے گئے سوالات کے چار جواب دیے گئے ہیں، صحیح جواب کو قوسین میں لکھیے۔
-
1. حضرت عمر فاروق خلیفہ ہیں: ( B )
B. دوسرے
-
2. عمر بن عبد العزیز نے کیسی زندگی بسر کی؟ ( C )
C. سادہ
-
3. حضرت عمر بن عبد العزیز سبق کے مصنف ہیں: ( A )
A. شبلی نعمانی
-
4. شبلی نعمانی نے کتنے سال میں تعلیم مکمل کی؟ ( B )
B. 16
-
5. اس سبق کا موضوع ہے: ( A )
A. انصاف، دیانت داری
قواعد - زبان شناسی (صفحہ 68-69)
فعل ماضی کی اقسام اور تشریح
-
1. ماضی مطلق: وہ ہے جس سے محض ایک فعل کے گزشتہ زمانے میں واقع ہونے کی خبر ملے (جیسے: احمد آگیا، موہن بھاگا)۔
-
2. ماضی قریب: گزشتہ زمانے کے ایسے کام کو بتاتی ہے جو بالکل قریب زمانے میں واقع ہوا ہو (جیسے: وہ ابھی آیا ہے)۔
-
3. ماضی بعید: جس سے فعل کا زمانہ گزشتہ میں قطعی طور پر ہو جانا پایا جائے (جیسے: میں دہلی گیا تھا)۔
📄 Download or view this worksheet/page: