لفظ و معنی
| لفظ | معنی |
|---|---|
| مکتب | مدرسہ |
| کج خلقی | مزاج کا کڑواپن ، روکھا پن |
| بیعت کرنا | مرید بننا ، اطاعت کا عہد لینا |
| تسخیر | قابو میں کرنا ، فتح کرنا |
| بدوی | عرب کے وہ باشندے جو گھر نہیں بناتے ، ریگستانوں میں رہتے ہیں اور زیادہ تر زندگی اونٹوں پر یا خیمے میں گزارتے ہیں۔ |
| والله لا ازید ولا انقص | ( عربی فقرہ ) خدا کی قسم نہ میں زیادہ کروں گا اور نہ کم |
| سعی | کوشش |
| ساعی | کوشش کرنے والا |
| مبنی | منحصر |
| پشیمان | شرمنده، پچھتانے والا |
غور کرنے کی بات
- سرسید اپنے زمانے کے مفکر اور مصلح تھے۔ ان کی نثر میں وہی سنجیدگی ، وزن اور وقار ہے جو ان کے کردار میں تھا۔[cite: 1]
- اس مضمون میں سرسید کا اسلوب بڑا افسانوی ہے۔ آخری اقتباس سے قبل یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ سرسید کی کہانی کا ہیرو کوئی بوڑھا نہیں بلکہ ایک کم عمر لڑکا ہے۔[cite: 1]
- سرسید وقت کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اپنی تحریروں کے ذریعے وہ قوم کے نوجوانوں کو وقت کی قدر و قیمت کا احساس دلاتے رہتے تھے۔[cite: 1]
سوالوں کے جواب لکھیے
-
1. بوڑھا اپنی جوانی کے زمانے کو کن لفظوں میں یاد کرتا ہے؟
بوڑھا اپنی جوانی کے سرخ سفید چہرے، سڈول ڈیل، بھرے بھرے بدن، رسیلی آنکھوں، موتی کی لڑی جیسے دانت، امنگ میں بھرے ہوئے دل اور جذباتِ انسانی کے جوشوں کی خوشی کو یاد کرتا ہے۔[cite: 1]
-
2. سرسید نے برس کی اخیر رات کا ذکر کس طرح کیا ہے؟
سرسید نے برس کی اخیر رات کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ رات بہت ڈراونی اور اندھیری ہے، گھٹا چھا رہی ہے، بجلی تڑپ تڑپ کر کڑکتی ہے، اور آندھی بڑے زور سے چلتی ہے جس سے دل کانپتا ہے اور دم گھبراتا ہے۔[cite: 1]
-
3. بوڑھے کو جو خوب صورت دلہن نظر آئی ، اس سے مصنف کی کیا مراد ہے؟
بوڑھے کو نظر آنے والی خوب صورت دلہن سے مصنف کی مراد "ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی" ہے، جو انسان کی بھلائی اور اس کی بہتری کی کوشش کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔[cite: 1]
-
4. ماں نے لڑکے کو کیا نصیحت کی؟
ماں نے لڑکے کو نصیحت کی کہ بیٹا تو ایسا مت کر جیسا کہ اس پشیمان بڈھے نے کیا، بلکہ ایسا کر جیسا تیری دلہن (نیکی) نے تجھ سے کہا ہے۔[cite: 1]
-
5. لڑکے نے کیا عہد کیا ؟
لڑکے نے عہد کیا کہ وہ کبھی اس بڑھے کی طرح نہیں پچھتائے گا اور ضرور اس دلہن کو بیاہے گا جس کا نام ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی ہے۔[cite: 1]
-
6. آخری پیرا گراف میں سرسید نے قوم کے نوجوانوں کو کیا نصیحت کی ہے؟
آخری پیراگراف میں سرسید نے نوجوانوں اور قوم کے بچوں کو نصیحت کی ہے کہ اپنی قوم کی بھلائی کے لیے کوشش کرو تاکہ آخری وقت میں اس بڈھے کی طرح پچھتانا نہ پڑے۔[cite: 1]
عملی کام
-
سبق کی بلند خوانی کیجیے۔
(طلبہ یہ کام خود کریں گے۔)
-
مضمون میں ’نیکی بدی‘، ’آسان مشکل‘ جیسے متضاد الفاظ ایک ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ آپ اسی طرح کے کچھ متضاد الفاظ سوچ کر لکھیے۔
صبح شام، دن رات، سچ جھوٹ، کالا سفید، ہار جیت۔
-
مندرجہ ذیل محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے : دل پاش پاش ہونا، ہچکی بندھنا، ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا
دل پاش پاش ہونا: غریب کی بے بسی اور دکھ دیکھ کر میرا دل پاش پاش ہو گیا۔
ہچکی بندھنا: ماں کی یاد میں روتے روتے بچے کی ہچکی بندھ گئی۔
ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا: وہ حیرانی سے آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا تھا۔ -
مندرجہ ذیل لفظوں میں سے مذکر اور مونث الگ الگ کیجیے : اندھیرا، زندگی ، آشنا، جوبن، کھڑکی ، گھٹا، بجلی ، بادل
مذکر مونث اندھیرا، آشنا، جوبن، بادل زندگی، کھڑکی، گھٹا، بجلی
📄 Download or view this worksheet/page: