```
```
لفظ و معنی
| لفظ | معنی |
|---|---|
| فکر سخن کرنا | شعر کہنا ، شعر کہنے کی کوشش کرنا |
| آئی سی ۔ ایس | انڈین سول سروس (Indian Civil Service) ۔ انگریزوں کے زمانے کی انتظامی ملازمت کی سروس جسے اب آئی۔ اے۔ ایس (Indian Administrative Service) کہتے ہیں۔ |
| غل غپاڑے | شور و غل |
| اسامی | نوکری ، منصب |
| اکتفا کرنا | قناعت کرنا ، مطمئن رہنا |
| مصاحب | درباری |
| بول | پیشاب |
| براز | پاخانہ |
| پانسات | پانچ سات، یہ تلفظ بول چال کے لہجے یا بے تکلف تحریر میں استعمال ہوتا ہے |
| چودہ طبق روشن ہونا | چودہ طبق کے معنی سات زمین، سات آسمان ، مراد دماغ یا طبیعت کا خوب کھل جانا، مزاج میں پوری طرح بحالی آجانا۔ |
| آش جو | جو کا جوش دیا ہوا پانی جو کمزور مریضوں کو دیا جاتا ہے |
| لب گور | مرنے کے قریب ( لفظی معنی قبر کے کنارے ) |
| آراضی | زمین، کھیت |
| سبک دوش | فارغ |
| نقش سلیمانی | کوئی تعویذ یا دعا عملیات کی مشہور کتاب |
| تاملوٹ | بغیر ٹونٹی کا لوٹا ، ڈونگا |
| سمن | انگریزی (Summon) عدالت میں حاضر ہونے کا تحریری حکم نامہ |
| قیلولہ | دو پہر کے کھانے کے بعد کی مختصر نیند |
غور کرنے کی بات
- رشید احمد صدیقی کا شمار اردو کے معروف انشائیہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی نثر ظرافت کا اعلا نمونہ ہے۔ وہ عام طور پر اپنی تحریروں میں سیاسی ، معاشرتی اور ادبی مسائل کا ذکر کرتے ہیں اور ان کو دلچسپ بنانے کے لیے نا در تشبیہات ، متضاد الفاظ اور رمز و اشارہ سے کام لیتے ہیں۔
- ان کے طنز کا وار بھر پور ہوتا ہے۔
سوالوں کے جواب لکھیے
-
1. رشید احمد صدیقی نے چار پائی کو ہندوستانیوں کا اوڑھنا بچھونا کیوں کہا ہے؟
رشید احمد صدیقی نے چار پائی کو ہندوستانیوں کا اوڑھنا بچھونا اس لیے کہا ہے کیونکہ ہم اسی پر پیدا ہوتے ہیں، اور یہیں سے مدرسے، آفس، جیل خانے، کونسل یا آخرت کا راستہ لیتے ہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی کے تمام کام اسی پر انجام پاتے ہیں۔
-
2. رشید احمد صدیقی نے چار پائی کی مثال ریاست کے ملازم سے کیوں دی ہے؟
مصنف نے چار پائی کی مثال ریاست کے ملازم سے اس لیے دی ہے کیونکہ جس طرح ریاست کا ایک ملازم ہر کام کے لیے ناموزوں ہوتا ہے لیکن اسے ہر کام پر لگا دیا جاتا ہے، اسی طرح چار پائی کو بھی ہر قسم کے کام (سونے، بیٹھنے، دوا خانے وغیرہ) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
-
3. ہندوستانی گھرانوں میں چار پائی کو کس کس کام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؟
ہندوستانی گھرانوں میں چار پائی کو ڈرائنگ روم، سونے کا کمرہ، غسل خانہ، قلعہ، خانقاہ، خیمہ، دواخانہ، صندوق، کتاب گھر، شفا خانہ، غلہ سکھانے اور دستر خوان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
-
4. مصنف نے چار پائی کو ضرورت اور ایجاد کا سب سے بھر پور نمونہ کیوں کہا ہے؟
مصنف نے چار پائی کو ضرورت اور ایجاد کا بھرپور نمونہ اس لیے کہا ہے کیونکہ یہ ہندوستان کی آب و ہوا، تمدن و معاشرت کے عین مطابق ہے۔ یہ ڈھیلی ڈھالی اور بے سروسامان ہونے کے باوجود ہر قسم کا سامانِ راحت اور عافیت فراہم کرتی ہے۔
-
5. چار پائی میں رشید احمد صدیقی نے عام ہندوستانی رہن سہن کا جو نقشہ کھینچا ہے، اسے مختصر لکھیے۔
مصنف نے ہندوستانی رہن سہن کا خاکہ پیش کیا ہے جس میں ایک چار پائی پر مریض کا علاج ہوتا ہے، مہمان کو بٹھایا جاتا ہے، اناج سکھایا جاتا ہے، اور خاندان کے بڑے وہیں بیٹھ کر احکامات جاری کرتے ہیں۔ یہ بیک وقت ڈرائنگ روم، شفا خانہ اور کھانے کے کمرے کا کام دیتی ہے۔
عملی کام
-
چار پائی کا جو پیرا گراف آپ کو پسند ہو اُسے اپنی کاپی میں خوش خط نقل کیجیے۔
(طلبہ یہ کام خود کریں گے۔)
-
اس سبق میں جو محاورے استعمال کیے گئے ہیں ، ان میں سے کوئی پانچ محاورے تلاش کیجیے اور ان کے معنی بھی لکھیے ۔
محاورہ معنی لبِ گور لانا مرنے کے قریب پہنچنا غل غپاڑا کرنا شور و غل مچانا چودہ طبق روشن ہونا طبیعت کا خوب کھل جانا یا حیران رہ جانا سبک دوش ہونا ملازمت یا ذمہ داری سے فارغ ہونا جان لے کر بھاگنا خوف یا گھبراہٹ کے مارے تیزی سے بھاگنا -
درج ذیل الفاظ کے واحد لکھیے : ملازمین ، طلبا، کتب، تقاریب، مجرمین
جمع واحد ملازمین ملازم طلبا طالبِ علم کتب کتاب تقاریب تقریب مجرمین مجرم
📄 Download or view this worksheet/page: