لفظ و معنی
| لفظ | معنی |
|---|---|
| حلیم | برداشت کرنے والا ، نیک مزاج کا ، رحم کرنے والا |
| تردید | کسی چیز یا کسی بات کو غلط ٹھہرانا |
| اشک ریزی | آنسو بہانا |
| مناظره | بحث مباحثہ |
| اشتعال | غصہ ، بھڑک اٹھنا |
| تضحیک | ہنسی اڑانا |
| تعریض | اعتراض کرنا |
| رکیک | بہت باریک ، کم قیمت چھچھورا |
| عفونت | بد بو، بساند |
| بے ضرر | جس سے کوئی نقصان نہ ہو |
| استخوان | ہڑی |
| لیل | رات |
| نہار | دن |
| رطوبت | نمی تری |
| قلق | افسوس |
| سنگریزه | کنکری |
| زائر | زیارت کرنے والا |
| مشیت ایزدی | اللہ کی مرضی |
| کوزه | مٹی کا پیالا |
| شائبه | ہلکا سانشان ، لہذا ہلکا سا شبہ یا شک |
| خطاوارانه | قصور کرنے والے کی طرح |
| احتفاظ | لطف اٹھانا ، مزہ لینا |
غور کرنے کی بات
- اس افسانے میں منشی پریم چند نے متوسط طبقے کے مسلم گھرانے کی روز مرہ زندگی کی عکاسی کی ہے۔[cite: 3]
- افسانے کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں مصنف نے عورت کی ممتا کو موثر انداز میں پیش کیا ہے۔[cite: 3]
- افسانے میں عورتوں اور بچوں کی نفسیات کو بڑی خوبی سے پیش کیا گیا ہے۔[cite: 3]
- مصنف نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ صرف مذہبی فرائض ادا کرنے سے ہی ثواب نہیں ملتا بلکہ انسانی حقوق کی ادائیگی بھی عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔[cite: 3]
- اس افسانے میں پریم چند نے خدمت خلق کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ جس کا درجہ اور ثواب بعض حالات میں عبادت سے بھی بڑھ کر ہو جاتا ہے۔[cite: 3]
- یہ افسانہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ غریب اور مجبور لوگوں کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ انسانی زندگی کا ایک اہم اور ضروری حصہ ہوتے ہیں۔[cite: 3]
سوالوں کے جواب لکھیے
-
1. شاکرہ عباسی سے کیوں ناراض رہتی تھی ؟
شاکرہ کو شک تھا کہ دایہ (عباسی) ان کے گھر میں چوری کرتی ہے یا انہیں لوٹتی ہے۔ وہ دایہ کی لائی ہوئی ہر چیز کو گھنٹوں دیکھتی اور بار بار بھاؤ پوچھتی تھی۔ جب دایہ بازار سے دیر سے لوٹتی تو شاکرہ کی بدگمانی مزید بڑھ جاتی اور وہ اس پر ناراض ہوتی تھی۔[cite: 3]
-
2. نصیر کی بیماری کا کیا سبب تھا ؟
نصیر کو اپنی دایہ (عباسی) سے بہت محبت تھی۔ دایہ کے نکالے جانے کے بعد وہ اس کی جدائی کے صدمے سے گھلتا گیا اور برسات کے موسم میں ہوا اور نمی کے اثر سے کھانسی اور بخار میں مبتلا ہو گیا۔[cite: 3]
-
3. عباسی نے حج پر جانا کیوں ملتوی کر دیا تھا ؟
دہلی اسٹیشن پر عباسی کو صابر حسین سے معلوم ہوا کہ اس کے جانے کے بعد سے نصیر بے حد بیمار ہے اور اسی کی رٹ لگا رہا ہے۔ نصیر کی محبت اور ممتا کے جذبے نے عباسی کو تڑپا دیا، جس کے باعث اس نے اپنا حج پر جانا ملتوی کر دیا اور فوراً بچے کے پاس لوٹ آئی۔[cite: 3]
-
4. عباسی کی واپسی سے نصیر پر کیا اثر ہوا ؟
عباسی کو دیکھتے ہی نصیر اس کے گلے سے لپٹ گیا۔ اس کا زرد اور مرجھایا ہوا چہرہ فوراً روشن ہو گیا، جیسے بجھتے ہوئے چراغ میں تیل پڑ گیا ہو، اور اسے دلی سکون مل گیا۔[cite: 3]
-
5. صابر حسین نے عباسی سے یہ کیوں کہا : ” تمھیں اس سے کہیں زیادہ ثواب ہو گیا۔ اس حج کا نام حج اکبر ہے۔“
صابر حسین نے یہ اس لیے کہا کیونکہ عباسی نے اپنا مذہبی فریضہ (حج) ترک کر کے ایک تڑپتے ہوئے بیمار بچے کی جان بچائی۔ اللہ کے نزدیک انسانی جان بچانے اور بے لوث محبت و خدمت کا ثواب عام حج سے کہیں بڑھ کر ہے، اسی لیے اسے 'حج اکبر' کا درجہ دیا گیا۔[cite: 3]
عملی کام
-
افسانے کو غور سے پڑھیے۔
(یہ کام طلبہ خود کریں گے۔)
-
ذیل میں دیے گئے محاوروں کے جملے بنائیے : خوشی سے پھولا نہ سمانا ، آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا، کانٹوں میں پیر رکھنا، گلے کا ہار ہونا، طبیعت سیر ہونا
- خوشی سے پھولا نہ سمانا: نصیر اپنی بے زبان بلی کو دیکھ کر خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا۔[cite: 3]
- آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا: بیماری کی حالت میں نصیر اپنے کھلونوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا تھا۔[cite: 3]
- کانٹوں میں پیر رکھنا: صابر حسین خانگی ترددات سے یوں بچتے تھے، وہ کانٹوں میں پیر رکھنے کی جرات نہ کرتے تھے۔[cite: 3]
- گلے کا ہار ہونا: نصیر ہر دم اپنی دایہ عباسی کے گلے کا ہار بنا رہتا تھا۔[cite: 3]
- طبیعت سیر ہونا: شاکرہ نے دایہ کو جھڑکتے ہوئے کہا کہ تمہارے تماشے دیکھ کر میری طبیعت سیر ہو گئی ہے۔[cite: 3]
-
افسانے کا مرکزی خیال بتائیے۔
اس افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسانی ہمدردی، خدمتِ خلق، اور ایک بیمار بچے کی جان بچانا ظاہری عبادتوں سے کہیں افضل ہے۔ خالص محبت اور قربانی اللہ کے نزدیک "حج اکبر" کے برابر ثواب رکھتی ہے۔[cite: 3]
-
درج ذیل الفاظ کے متضاد لکھیے : نفرت ، ستا ، ہوش، محبت ، مہنگا، خوش ، رونا ، شیریں ہنسی
الفاظ متضاد نفرت محبت ستا (سستا) مہنگا ہوش بے ہوشی / مدہوشی خوش اداس / ناخوش رونا ہنسنا شیریں تلخ -
اس افسانے کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے ۔
یہ افسانہ منشی پریم چند کی ایک شاہکار تحریر ہے جس میں صابر حسین کے بیٹے نصیر اور اس کی دایہ عباسی کی سچی محبت کو بیان کیا گیا ہے۔ نصیر کی ماں شاکرہ کو شک رہتا تھا کہ دایہ چوری کرتی ہے، جس پر وہ اسے نکال دیتی ہے۔ دایہ کی جدائی میں نصیر بیمار ہو کر مرجھا جاتا ہے۔ دایہ عباسی، جو بے حد دکھی تھی، حج پر جانے کا ارادہ کرتی ہے مگر راستے میں صابر حسین سے نصیر کی بیماری کا سن کر اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے۔ وہ اپنا حج کا ارادہ ترک کر کے نصیر کے پاس لوٹ آتی ہے جس سے بچے کی جان میں جان آ جاتی ہے۔ صابر حسین اس عظیم قربانی پر کہتے ہیں کہ تم نے جو ثواب کمایا ہے، وہی دراصل 'حج اکبر' ہے۔[cite: 3]
📄 Download or view this worksheet/page: