Type Here to Get Search Results !

AP 9th Urdu Textbook solutions 4. مگر وہ ٹوٹ گئی (magar woh toot gayi) 2026-27

0
مگر وہ ٹوٹ گئی
لفظ و معنی
لفظ معنی
منجمد جما ہوا، ٹھہرا ہوا
نالاں بیزار
ہراساں ڈرا ہوا
اوجھل نظروں سے چھپا ہوا
ہسٹیریک انداز چیخنا، چلانا ، رونا۔ ہسٹیریا (Hysteria) ایک بیماری ہوتی ہے جس میں انسان کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اور وہ مختلف طرح کی حرکتیں کرنے لگتا ہے۔
خودداری اپنی عزت کا پاس
غور کرنے کی بات
  • اس کہانی کے دورخ ہیں۔ اس کہانی میں جہاں لڑکیوں پر مظالم کی داستان بیان کی گئی ہے وہیں غیر ذمے دار مردوں پر طنز بھی کیا گیا ہے۔[cite: 4]
  • یہ کہانی ہمارے معاشرے کی ان خواتین کی تصویر کشی کرتی ہے جو آئے دن ایسے حالات سے مقابلہ کرتی ہیں ، جیسا کہ اس کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ شوہر کے بُرے برتاؤ کے با وجود بیوی کسی نہ کسی طرح خواہ وہ اپنے خاندان کی عزت یا اپنے بچوں کی خاطر نباہنے کی کوشش کرتی ہے۔[cite: 4]
  • صالحہ عابد حسین کی یہ کہانی جس زمانے میں لکھی گئی اس وقت کی تعلیم یافتہ لڑکیاں ظلم سہنے کے باوجود خاموش رہتی تھیں لیکن آج کی عورت بیدار ہو چکی ہے وہ شوہر کے اس گھناؤنے عمل کے بعد خاموش نہیں بیٹھتی ، اس کو صدمہ تو ضرور پہنچتا ہے لیکن اس کے بعد اس کے اندر ایک نیا عزم پیدا ہوتا ہے۔[cite: 4]
سوالوں کے جواب لکھیے
  • 1. مصنفہ نے بھابھی ، باجی اور منورما کی شادیوں کی ناکامی کے کیا اسباب بتائے ہیں؟
    مصنفہ کے مطابق بھابھی کا مزاج بہت تیز تھا، باجی میں ضرورت سے زیادہ خودداری اور آن بان تھی جس کی وجہ سے شوہر سے مقابلہ رہتا تھا، اور منورما حد سے زیادہ حساس اور بے زبان تھی جس کی وجہ سے اس نے خودکشی کر لی۔[cite: 4]
  • 2. افسانے کی ہیروئن کو پورا خاندان خوش قسمت کیوں سمجھتا تھا ؟
    پورا خاندان ہیروئن کو اس لیے خوش قسمت سمجھتا تھا کیونکہ ان کے خیال میں اس کا شوہر اسے بے حد چاہتا تھا اور نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا تھا۔[cite: 4] ان کا ماننا تھا کہ وہ ہزاروں میں کھیلتی ہے اور اس کی ہر ضرورت اور خواہش پوری ہوتی ہے، نیز اسے ہر عیش و آرام میسر ہے۔[cite: 4]
  • 3. افسانے کی ہیروئن ہر طرح کے حالات سے نباہ کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی تھی؟
    افسانے کی ہیروئن یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ وہ نباہ کرنا جانتی ہے اور وہ اپنے شوہر کا دل جیت لے گی۔[cite: 4] اس کا عزم تھا کہ وہ اس کے لیے ناگزیر بن جائے گی، اس کے مزاج کو سہارے گی اور اسے خوش رکھے گی تاکہ سب کو ہتھیار ڈالنے پڑیں۔[cite: 4]
  • 4. اس افسانے کا ہیرو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود لڑکیوں کے پیدا ہونے پر بیوی سے ناراض کیوں تھا؟
    افسانے کا ہیرو ایک روشن خیال اور اعلا تعلیم یافتہ مرد ہونے کے باوجود لڑکیوں کی پیدائش کو ناپسند کرتا تھا۔[cite: 4] ایک کے بعد دوسری بیٹی پیدا ہونے پر اس کے چہرے پر ناگواری کے بل پڑ جاتے تھے، جیسے یہ بیوی کے اختیار کی بات ہو۔[cite: 4]
عملی کام
  • مندرجہ ذیل محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے : پھٹی پھٹی آنکھوں سے تکنا، خاک میں ملنا ، آنکھ سے اوجھل ہونا، ہزاروں میں کھیلنا
    • پھٹی پھٹی آنکھوں سے تکنا: طلاق نامہ ہاتھ سے گرنے کے بعد وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیوار کو تکتی رہی۔[cite: 4]
    • خاک میں ملنا: بیٹے کی پیدائش پر ملنے والی عزت اور قدر کچھ عرصے بعد پھر خاک میں مل گئی۔[cite: 4]
    • آنکھ سے اوجھل ہونا: خاندان والوں کا خیال تھا کہ اس کا شوہر اسے آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیتا۔[cite: 4]
    • ہزاروں میں کھیلنا: لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ ہزاروں میں کھیلتی ہے اور ہر عیش و آرام میسر ہے۔[cite: 4]
  • افسانے میں ایک جگہ ” مزاج شناس“ لفظ استعمال ہوا ہے جس میں ” شناس‘ لاحقہ ہے۔ آپ اس لاحقے کا استعمال کر کے تین الفاظ لکھیے۔
    حق شناس، قدر شناس، فرض شناس۔
  • اس افسانے میں استعمال ہونے والے پانچ انگریزی الفاظ لکھیے۔
    بیڈ روم (Bed Room)، لیمپ (Lamp)، نائٹ گاؤن (Night Gown)، ٹیچر (Teacher)، اسٹامپ (Stamp)۔[cite: 4]

📄 Download or view this worksheet/page:

కామెంట్‌ను పోస్ట్ చేయండి

0 కామెంట్‌లు

Top Post Ad

Bottom Post Ad

Show ad in Posts/Pages