```
لفظ و معنی
| لفظ | معنی |
|---|---|
| مشاہیر | مشہور کی جمع ، یعنی مشہور لوگ |
| دل آویزی | دل کو کھینچنے کی صفت |
| محاسبہ کرنا | حساب کرنا ، جائزہ لینا |
| ریاضت | محنت ، جد و جہد |
| کیسہ | تھیلی |
| حقیر | بے وقعت |
| تکمیل | مکمل کرنا ، مکمل ہونا |
| عطیہ | بخشش ، انعام |
| منصور | ایک مشہور صوفی جنھیں ان کے خیالات کی وجہ سے سزائے موت دی گئی تھی |
| انا الحق (عربی) | میں مطلق حق ہوں، یعنی میں خدا ہوں |
| بد گوئی | برا کہنا |
| کلمہ خیر | اچھی بات |
| حسن ظن | نیک خیال، اچھا خیال |
| اعتماد | یقین |
| تحقیر | کسی کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، کم تر ٹھہرانا |
| منصب | عہدہ |
| گوناگوں | قسم قسم کے |
| اجاگر کرنا | روشن کرنا ، ظاہر کرنا |
| متعدی | کوئی چیز ، مثلاً بیماری جو چھوت سے لگتی ہو |
| ازل | ہمیشگی |
غور کرنے کی بات
- جینے کا سلیقہ خواجہ غلام السیدین کا بہت اچھا مضمون ہے۔ اس میں مصنف نے صحیح معنوں میں زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا ہے۔ ان کے نزدیک زندگی گزارنے کے لیے جہاں اچھے لوگوں کی صحبت کی ضرورت ہوتی ہے وہاں کام کرنا بھی اچھی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔
- دنیا میں جتنے بھی بڑے لوگ گزرے ہیں اگر آپ ان کی زندگی کے حالات پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر بڑے انسان کے پیچھے اس کے اچھے کام ہیں جنھوں نے اس کے نام کو زندہ رکھا ہے لیکن بڑا آدمی بننے کے لیے انسان کو بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
سوالوں کے جواب لکھیے
-
1. ڈاکٹر ذاکر حسین نے کام کی کیا اہمیت بتائی ہے؟
ڈاکٹر ذاکر حسین کے مطابق "کام بے مقصد نہیں ہوتا۔ کام کچھ کر کے وقت کاٹ دینے کا نام نہیں ، کام خالی دل لگی نہیں ، کام کھیل نہیں، کام کام ہے۔ با مقصد محنت ہے۔" کام انسان کا محاسبہ کرتا ہے، یہ ریاضت ہے اور عبادت ہے۔
-
2. دل تنگی ، بد نیتی اور شہبے کی ذہنیت کس طرح گھاٹے کا سودا ہے؟
مصنف کے مطابق جو شخص اس قسم کی طبیعت اور ذہنیت رکھتا ہے وہ عمر بھر کے لیے ایک روگ خرید لیتا ہے۔ ایسا انسان نہ تو خود خوش رہ سکتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو خوش رکھ سکتا ہے۔
-
3. مصنف کی نظر میں کیسے لوگ جینے کے سلیقے سے نا آشنا ہیں؟
مصنف کے نزدیک وہ لوگ جینے کے سلیقے سے ناآشنا ہیں جو خود کو بہت اہم سمجھتے ہیں، جو اپنے آپ کو تنقید سے بلند اور دوسروں کو کمتر جانتے ہیں، جن کے مزاج میں ضبط نہیں ہوتا اور جو اپنی دولت یا منصب کے رعب میں مبتلا رہتے ہیں۔
-
4. اچھی گفتگو کے ذریعے ہم کس طرح کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟
آج کے دور میں زبان سے تبادلہ خیال کا کام لیا جاتا ہے، اس لیے اچھی گفتگو ایک سماجی ہنر اور سیاسی ہتھیار بھی ہے۔ اگر انسان کی گفتگو میں لوچ، دل آویزی اور سلیقہ ہو تو وہ دوسروں کو اپنے تجربات میں شریک کر کے زندگی میں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔
-
5. مصنف نے اس مضمون میں کیا سمجھانے کی کوشش کی ہے؟ مختصر لکھیے ۔
اس مضمون میں مصنف نے با مقصد زندگی اور جینے کا صحیح سلیقہ سکھایا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ اچھی کتابوں، اچھے لوگوں کی صحبت اور محنت سے زندگی میں نکھار آتا ہے۔ ہمیں آپس کے معاملات میں خوش مزاجی، انصاف اور سچائی سے کام لینا چاہیے۔
عملی کام
-
چراغ کا کمال یہ ہے کہ خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو ساری دنیا کا اندھیرا اسے نہیں بجھا سکتا۔ اسی طرح کے چند جملے جو آپ کو اچھے لگے ہوں انھیں اپنی کاپی میں لکھیے اور زبانی یاد کیجیے۔
۱۔ نیکی بھی بدی کی طرح متعدی ہے، اس کا اثر دور دور تک پھیلتا ہے۔
۲۔ کام ریاضت ہے، کام عبادت ہے۔
۳۔ خوش مزاجی روز مرہ کی زندگی اور رشتوں میں لطف اور شیرینی پیدا کرتی ہے۔ -
اس مضمون میں ایک جگہ دو لفظ آئے ہیں با مقصد اور بے مقصد ۔ ان الفاظ میں صرف بے اور با کے استعمال سے لفظ کے معنی ہی بدل گئے ہیں یعنی با مقصد جس کا کوئی مقصد ہو اور بے مقصد جس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ آپ بھی ایسے چند الفاظ لکھیے جن میں بے اور با کا استعمال کیا گیا ہو۔
با ادب / بے ادب
با شعور / بے شعور
با اخلاق / بے اخلاق
با قاعدہ / بے قاعدہ -
مصنف اپنی بات میں زور اور اثر پیدا کرنے کے لیے کبھی کبھی تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس مضمون میں بھی مصنف نے ایک صوفی حضرت منصور حلاج کی طرف اشارہ کیا ہے۔... اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ مندرجہ ذیل تاریخی اشارات کے بارے میں اپنے استاد سے پوچھ کر لکھیے : قارون کا خزانہ، نمرود کی خدائی، حسن یوسف
قارون کا خزانہ: قارون بنی اسرائیل کا ایک نہایت مالدار شخص تھا جس کے خزانوں کی چابیاں اٹھانا بھی مشکل تھا۔ اس نے اپنی دولت پر غرور کیا تو اللہ نے اسے اس کے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا۔
نمرود کی خدائی: نمرود بابل کا ایک ظالم بادشاہ تھا جس نے تکبر میں آکر خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ادنیٰ مچھر کے ذریعے اس مغرور بادشاہ کو ہلاک کر کے اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔
حسن یوسف: حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بے مثال اور لاثانی حسن عطا فرمایا تھا جس کی وجہ سے زلیخا اور مصر کی دیگر عورتیں ان پر فدا ہو گئی تھیں۔ -
نیچے لکھے ہوئے الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے : تکمیل ، عطیہ، منصب ، اعتماد
تکمیل: جذبات کی تربیت کے بغیر انسان کی شخصیت کی تکمیل ممکن نہیں۔
عطیہ: زندگی خدا کا ایک بہت بڑا انمول عطیہ ہے۔
منصب: انسان کو اپنے اعلیٰ منصب پر کبھی غرور نہیں کرنا چاہیے۔
اعتماد: آپس کے رشتوں میں دوستی اور اعتماد کا ہونا بہت ضروری ہے۔
📄 Download or view this worksheet/page: