یہاں فراہم کردہ تصاویر اور عبارت پر مبنی اردو ورک شیٹس (اردو گلدستہ - 4) کے مختلف سرگرمیوں/مشغلوں کے حل نیچے ترتیب وار دیے گئے ہیں۔ آپ ان کو اپنی ورک شیٹ مکمل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں:
چوتھا دن: مفرد الفاظ (صفحہ 5)
مشغلہ (3): کوئی 10 جانوروں اور 10 پرندوں کے نام لکھیے:
10 جانوروں کے نام:
شیر (مثال) 2. ہاتھی 3. بکری 4. گائے 5. کتا 6. گھوڑا 7. بلی 8. بندر 9. بھالو 10. گدھا
10 پرندوں کے نام:
کوا (مثال) 2. طوطا 3. چڑیا 4. کبوتر 5. مور 6. بلبل 7. عقاب 8. ہنس 9. بطخ 10. کوئل
مشغلہ (4): دیے گئے الفاظ پڑھیے اور غیر متعلق لفظ پر دائرہ لگائیے اور لکھیے:
گائے، کتا، بلی، توتا (کیونکہ توتا پرندہ ہے، باقی جانور ہیں) → غیر متعلق لفظ: توتا
پولیس، جیل، نماز، قید (کیونکہ نماز عبادت ہے، باقی قانون/جرم سے متعلق ہیں) → غیر متعلق لفظ: نماز
دودھ، رہی، سیب، مکا (مکا یا مکئی کے علاوہ باقی ڈیری مصنوعات یا پھل ہیں) → غیر متعلق لفظ: مکا
پانچواں دن: مفرد اور مرکب الفاظ (صفحہ 6)
مشغلہ (2): جدول میں مفرد اور مرکب الفاظ الگ کیجیے:
مفرد الفاظ: پھول، شاعر، زندگی، ورق، شربت
مرکب الفاظ: کھیل کود، خوب صورت، شان و شوکت، یوم آزادی، شب معراج، آب زم زم
مشغلہ (3): جملوں میں سے مرکب الفاظ کی شناخت:
انور صبح سویرے اٹھتا ہے۔ → صبح سویرے
ناصر دردِ دل کا شکار ہے۔ → دردِ دل
یہ رسم و رواج بہت پرانے ہیں۔ → رسم و رواج
بچہ ترانہ ہندی پڑھ رہا ہے۔ → ترانہ ہندی
مشغلہ (4): مفرد الفاظ کی شناخت کر کے خالی خانوں میں لکھیں:
بد صورت (مرکب)، منزل (مفرد)، شان و شوکت (مرکب) → منزل
شبِ برات (مرکب)، قوم پرست (مرکب)، آزادی (مفرد) → آزادی
آب و ہوا (مرکب)، مغفرت (مفرد)، فنِ تعمیر (مرکب) → مغفرت
چھٹواں دن: جملے (صفحہ 7)
مشغلہ (1): صحیح () یا غلط () نشان لگائیں:
پھل دھو کر کھاؤ۔ (✓)
ہاتھ دھوئے بغیر کھالو۔ (×)
وقت پر نماز پڑھو۔ (✓)
بڑوں کی نافرمانی کرو۔ (×)
کپڑے صاف ستھرے رکھو۔ (✓)
پھل بغیر دھوئے کھاؤ۔ (×)
کھانے سے پہلے ہاتھ دھولو۔ (✓)
نماز کبھی بھی پڑھو۔ (×)
بڑوں کا کہنا مانو۔ (✓)
کھیل کر کپڑے گندے کر لو۔ (×)
مشغلہ (2): دیے گئے الفاظ پر مبنی جملے بنائیے:
مثال: درخت ہمیں تازہ ہوا دیتے ہیں۔
پھول: باغ میں رنگ برنگے پھول کھلے ہیں۔
پتے: درخت کے پتے ہرے رنگ کے ہوتے ہیں۔
چھاؤں: مسافر درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ گیا۔
بارش: بارش کے موسم میں چاروں طرف ہریالی چھا جاتی ہے۔
پھل: ہمیں روزانہ تازہ پھل کھانے چاہئیں۔
ساتواں دن: مترادف الفاظ (صفحہ 8)
مشغلہ (3): غلط مترادف الفاظ کی جوڑی پر دائرہ لگائیں:
غلط جوڑیاں (متضاد جوڑیاں):
حلال - حرام (یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں)
رات - دن (ضد ہیں)
شب - روز (ضد ہیں)
نفع - نقصان (ضد ہیں)
آٹھواں دن: واحد - جمع (صفحہ 9)
مشغلہ (3): جملوں میں جمع کی پہچان کر کے لکھیے:
یہ بلیاں ہیں۔ → بلیاں
شام کو پرندے درخت پر گا رہے ہیں۔ → پرندے
اسلامی مہینے بارہ ہیں۔ → مہینے
تمام موتیاں اکٹھا کرو۔ → موتیاں
نواں دن: متضاد الفاظ (صفحہ 10 - 11)
مشغلہ (2): لفظ کی ضد پر دائرہ بنائیں اور لکھیں:
روشنی → اندھیرا
نیچے → اوپر
پیارا → بد صورت
میٹھا → کڑوا
کانٹا → پھول
مشغلہ (3): متضاد الفاظ کے جملے:
مثال: دوست × دشمن (وہ میرا اچھا دوست تھا، اب دشمن ہو گیا)
زمین آسمان: پرندے آسمان میں اڑتے ہیں اور انسان زمین پر رہتا ہے۔
امیر غریب: ہمیں امیر اور غریب دونوں کی یکساں عزت کرنی چاہیے۔
اچھا برا: ہمیشہ اچھا کام کرو اور برے کاموں سے بچو۔
چاند سورج: سورج دن کو چمکتا ہے اور چاند رات کو روشنی دیتا ہے۔
مشغلہ (4): اضداد کی جوڑ ملائیے:
لائق → نالائق
نیا → پرانا
خوشبو → بدبو
سوال → جواب
دھوپ → چھاؤں
تھوڑا → بہت
دسواں دن: جنس (صفحہ 12 - 13)
مشغلہ (2): مذکر اور مونث کی درجہ بندی:
مذکر: فقیر، گدھا، جیٹھ، جگنو، ناگ، چمار، گھوڑا
مونث: بہن، بکری، پارسن، بلبل، استانی، لولی، پھوپی
مشغلہ (4): تذکیر و تانیث کی شناخت (واحد جوڑے):
چاچا → چاچی
ناگ → ناگن
دھوبی → دھوبن
چوہا → چوہیا
لڑکا → لڑکی
مکڑا → مکڑی
والد → والدہ
بکرا → بکری
ماما → مامی
مور → مورنی
نانا → نانی
بھائی → بہن
سلطان → سلطانہ
شاعر → شاعرہ
گیارھواں دن: رموز و اوقاف (صفحہ 14 - 15)
مشغلہ (5): علامت کا نام قوسین میں لکھیں:
ہائے ہائے ! یہ کیا ہو گیا۔ → (علامتِ فجائیہ / ندائیہ)
حضرت خواجہ اجمیریؒ نے ہر ایک کو نیکی، مساوات، سچائی اور رواداری کی تعلیم دی۔ → (سکتہ اور ختمہ)
کون آئے ہیں؟ → (سوالیہ نشان)
محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ → (ختمہ)
بارھواں اور تیرھواں دن: عبارت و فہم (صفحہ 16 - 17)
صفحہ 17 - مشغلہ (2): علم سے متعلق عبارت کے جوابات:
علم کے لغوی معنی کیا ہیں؟
جواب: علم کے لغوی معنی "جاننے" کے ہیں۔
عالم اور جاہل کی مثال کیسی ہے؟
جواب: عالم اور جاہل کی مثال اندھے اور بینا (دیکھنے والے) جیسی ہے۔
کون قیمتی زندگی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا؟
جواب: جاہل آدمی اپنی قیمتی زندگی کی غرض و غایت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
علم کی وجہ سے انسان کیا کہلایا؟
جواب: علم ہی کی وجہ سے انسان "اشرف المخلوقات" کہلایا۔
علم کیسی دولت ہے؟
جواب: علم ایک لازوال دولت ہے۔