Type Here to Get Search Results !

6TH URDU SEM1 L5 عظیم شخصیات (سرسری مطالعہ

0
5 عظیم شخصیات (سرسری مطالعہ )
صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔ (Page 82)
  • 1. اللہ کا نائب ہوتا ہے۔
    A. خلیفہ
    B. عام آدمی
    C. فقیر
    D. مولوی
    Answer: A. خلیفہ[cite: 5]
  • 2. لفظ "شخص" کے معنی ہیں۔
    A. لوگ
    B. عوام
    C. آدمی
    D. حیوان
    Answer: C. آدمی
  • 3. خلفائے راشدین کتنے ہیں۔
    A. پانچ
    B. چار
    C. تین
    D. دو
    Answer: B. چار[cite: 5]
  • 4. سب سے پہلے خلیفہ کون ہیں ؟
    A. حضرت ابو بکر صدیق
    B. حضرت عمر فاروق
    C. حضرت عثمان غنی
    D. حضرت علی
    Answer: A. حضرت ابو بکر صدیق[cite: 5]
  • 5. سب سے آخری خلیفہ کون ہیں ؟
    A. حضرت ابو بکر صدیق
    B. حضرت عمر فاروق
    C. حضرت عثمان غنی
    D. حضرت علیؓ
    Answer: D. حضرت علیؓ[cite: 5]
اظہار ما فی الضمیر
  • 1. خلیفہ کسے کہتے ہیں ؟
    خلیفہ اللہ کا نائب ہوتا ہے۔ وہ اللہ کے ہدایات و احکامات کے مطابق اور حضرت محمد کے بتائے ہوئے طریقے کے ساتھ بندگانِ خدا کو سیدھے راستہ پر لانے کا کام انجام دیتے ہیں۔[cite: 5]
  • 2. خلفائے راشدین کے نام لکھیے ؟
    خلفائے راشدین کے نام یہ ہیں: 1. حضرت ابو بکر صدیق 2. حضرت عمر فاروق 3. حضرت عثمان غنی 4. حضرت علی مرتضی۔[cite: 5]
  • 3. حضرت علی کے القاب کون سے ہیں؟
    حضرت علی کے تین مشہور القاب یہ ہیں: 1. اسد اللہ (جس کا مطلب ہے اللہ کا شیر) 2. مرتضی (پسندیدہ یا مقبول) 3. حیدر (پھاڑ کھانے والا شیر)۔[cite: 5]
  • 4. حضرت عمر فاروق عوام کو کن کن تدبیروں سے آرام پہنچارہے تھے ؟
    حضرت عمر فاروق راتوں میں شہر کا گشت کیا کرتے تھے۔[cite: 5] رعایا کے آرام کے لیے انہوں نے سڑکیں، پل اور مسجدیں بنوائیں۔[cite: 5] مسافروں کی سہولت کے لیے مہمان خانے بنائے اور کاشت کاروں کے لیے پوری سلطنت میں نہریں بنوائیں۔[cite: 5]
  • 5. حضرت ابو بکر صدیق کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں لکھیے۔
    حضرت ابو بکر صدیق شہر مکہ میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی سے بہت نیک اور عقل مند تھے۔[cite: 5] آپ نے غریبوں کی مدد اور غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے اپنی ساری دولت لٹادی۔[cite: 5] آپ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ چنے گئے اور پیارے نبی نے آپ کو "صدیق" کے لقب سے نوازا۔[cite: 5]
  • 6. حضرت عثمان غنی کی سخاوت کے بارے میں لکھیے۔
    حضرت عثمان غنی غریبوں، بیواؤں اور بے کسوں کی بہت مدد کرتے تھے۔[cite: 5] ایک دفعہ قحط کے دوران آپ کا تجارتی مال مدینہ پہنچا، تو آپ نے تاجروں سے دگنا نفع لینے کے بجائے وہ پورا مال مدینہ کے غربا اور مساکین میں مفت تقسیم کر دیا، جس پر پیارے نبی نے آپ کو "غنی" کا خطاب عطا فرمایا۔[cite: 5]

కామెంట్‌ను పోస్ట్ చేయండి

0 కామెంట్‌లు

Top Post Ad

Bottom Post Ad

Show ad in Posts/Pages