Type Here to Get Search Results !

9th urdu تعلیم سے بے توجہی کا نتیجہ

0
تعلیم سے بے توجہی کا نتیجہ[cite: 9]
تعلیم سے بے توجہی کا نتیجہ[cite: 9]
  • جنھوں نے کہ تعلیم کی قدر و قیمت نہ جانی
    مسلط ہوئی اُن پہ ظلمت[cite: 9]
    ملوک اور سلاطیں نے کھوئی حکومت
    گھرانوں پہ چھائی امیروں کے نکبت[cite: 9]
    رہے خاندانی نہ عزت کے قابل
    ہوئے سارے دعوے شرافت کے باطل[cite: 9]

    نہ چلتے ہیں واں کام کاریگروں کے
    نہ برکت ہے پیشہ میں پیشہ وروں کے[cite: 9]
    بگڑنے لگے کھیل سوداگروں کے
    ہوئے بند دروازے اکثر گھروں کے[cite: 9]
    کماتے تھے دولت جو دن رات بیٹھے
    وہ اب ہیں دھرے ہاتھ پر ہاتھ بیٹھے[cite: 9]

    ہنر اور فن واں ہیں سب گھٹتے جاتے
    ہنرمند ہیں روز و شب گھٹتے جاتے[cite: 9]
    ادیبوں کے فضل و ادب گھٹتے جاتے
    طبیب اور ان کے مطب گھٹتے جاتے[cite: 9]
    ہوئے پست سب فلسفی اور مناظر
    نہ ناظم ہیں سرسبز اُن کے نہ ناشر[cite: 9]

    اگر اک پہننے کو ٹوپی بنائیں
    تو کپڑا وہ اک اور دنیا سے لائیں[cite: 9]
    جو سینے کو وہ ایک سوئی منگائیں
    تو مشرق سے مغرب میں لینے کو جائیں[cite: 9]
    ہر ایک شے میں غیروں کے محتاج ہیں وہ
    مکینکس کی رو میں تاراج ہیں وہ[cite: 9]

    جو مغرب سے آئے نہ مالِ تجارت
    تو مر جائیں بھوکے وہاں اہل حرفت[cite: 9]
    ہو تجار پر بند راه معیشت
    دکانوں میں ڈھونڈیں نہ پائیں بضاعت[cite: 9]
    پرائے سہارے ہیں بیوپار واں سب
    طفیلی ہیں سیٹھ اور تجار واں سب[cite: 9]

    یہ ہیں ترک تعلیم کی سب سزائیں
    وہ کاش اب بھی غفلت سے باز اپنی آئیں[cite: 9]
    مبادا ره عافیت پھر نہ پائیں
    کہ ہیں بے پناہ آنے والی بلائیں[cite: 9]
    ہوا بڑھتی جاتی سر رہ گزر ہے
    چراغوں کو فانوس بن اب خطر ہے[cite: 9]

    ہر اک فوج کا جائزہ لے رہا ہے
    لیے فرد بخشی دوراں کھڑا ہے[cite: 9]
    جنھیں ماہر اور کرتی دیکھتا ہے
    انھیں بخشا شیخ و طبل و نوا ہے[cite: 9]
    یہ ہیں بے ہنر یک قلم چھٹتے جاتے
    رسالوں سے نام ان کے ہیں کٹتے جاتے[cite: 9]
مشق: لفظ و معنی[cite: 9]
لفظ[cite: 9] معنی[cite: 9]
بے تو جہی[cite: 9] دھیان نہ دینا تعلق نہ رکھنا[cite: 9]
مسلط[cite: 9] چھایا ہوا، حاوی[cite: 9]
نکبت[cite: 9] مفلسی ، بد حالی ، خواری[cite: 9]
ظلمت[cite: 9] اندھیرا، تاریکی[cite: 9]
باطل[cite: 9] جھوٹ[cite: 9]
پیشه[cite: 9] وہ کام جو روزی کمانے کے لیے کیا جائے[cite: 9]
فضل[cite: 9] بزرگی ، مہربانی[cite: 9]
طبيب[cite: 9] علاج کرنے والا، حکیم[cite: 9]
مطب[cite: 9] دواخانه[cite: 9]
ناشر[cite: 9] پھیلانے والا ، یعنی کتابیں چھاپنے والا[cite: 9]
ناظم[cite: 9] انتظام کرنے والا ، سکریٹری کے معنی میں بھی مستعمل ہے[cite: 9]۔
تاراج[cite: 9] بر باد[cite: 9]
اہل حرفت[cite: 9] کاریگر[cite: 9]
تجار[cite: 9] تاجر کی جمع ، تجارت کرنے والے[cite: 9]
معیشت[cite: 9] کاروبار، روزی ، سبب زندگی[cite: 9]
بضاعت[cite: 9] پونجی ، سامان[cite: 9]
طفیلی[cite: 9] بن بلا یا مہمان[cite: 9]
مبادا[cite: 9] کہیں ایسا نہ ہو، خدانخواستہ[cite: 9]
رہ عافیت[cite: 9] بچاؤ کا راستہ ، خیریت کا راستہ[cite: 9]
طبل[cite: 9] نقاره[cite: 9]
نوا[cite: 9] آواز[cite: 9]
رسالوں[cite: 9] رسالہ کی جمع ، فوجی دستہ[cite: 9]
غور کرنے کی بات[cite: 9]
  • کسی بھی فرد، جماعت ، قوم اور ملک کی ترقی کے لیے تعلیم بہت ضروری ہے[cite: 9]۔ دنیا کے وہی ممالک اور قو میں خوشحال اور ترقی پذیر ہیں جہاں کے شہریوں میں ہر طرح کی تعلیم اور علم و ہنر موجود ہے[cite: 9]۔
  • اس نظم میں ہندوستانی قوم کی تعلیم سے دوری کو موضوع بنایا گیا ہے اور تعلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے جو نقصانات ہوتے ہیں ان پر روشنی ڈالی گئی ہے[cite: 9]۔
  • ی نظم مسدس کے فارم ( ہیئت ) میں لکھی گئی ہے[cite: 9]۔ مسدس اس نظم کو کہتے ہیں جس کے ایک بند میں چھے مصرعے ہوتے ہیں[cite: 9]۔ اس نظم میں سادہ اور سلیس زبان کا استعمال ہوا ہے[cite: 9]۔
سوالوں کے جواب لکھیے[cite: 9]
  • 1. تعلیم کی قدر و قیمت کیا ہے؟[cite: 9]
    تعلیم کی قدر و قیمت یہ ہے کہ یہ قوموں کو عزت، خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے[cite: 9]۔ جو قومیں تعلیم حاصل کرتی ہیں، وہ دنیا میں باوقار زندگی گزارتی ہیں اور ان کے ہنر اور فن میں اضافہ ہوتا ہے[cite: 9]۔
  • 2. حکومت اور قوموں پر زوال کیسے آتا ہے؟[cite: 9]
    جب قومیں تعلیم سے دوری اختیار کر لیتی ہیں اور علم و ہنر کو چھوڑ دیتی ہیں، تو ان پر زوال آنا شروع ہو جاتا ہے[cite: 9]۔ بادشاہوں کی حکومتیں ختم ہو جاتی ہیں، اور امیروں کے گھرانوں پر مفلسی چھا جاتی ہے[cite: 9]۔
  • 3. شرافت اور عزت کا معیار کیا ہے؟[cite: 9]
    شرافت اور عزت کا حقیقی معیار علم اور ہنر ہے[cite: 9]۔ جب تعلیم نہیں رہتی تو خاندانی عزت اور شرافت کے تمام دعوے جھوٹے پڑ جاتے ہیں، جیسا کہ نظم میں کہا گیا ہے کہ "رہے خاندانی نہ عزت کے قابل / ہوئے سارے دعوے شرافت کے باطل"[cite: 9]۔
  • 4. ترک تعلیم کے کیا کیا نقصانات ہیں؟[cite: 9]
    ترک تعلیم کے نقصانات میں ہنر اور فن کا زوال، پیشوں میں برکت کا خاتمہ، تجارت کا تباہ ہونا، اور قوم کا غیروں کا محتاج ہو جانا شامل ہے[cite: 9]۔ تعلیم چھوڑنے سے کاریگر بے روزگار ہو جاتے ہیں اور ہنرمندوں کی کمی ہو جاتی ہے[cite: 9]۔
  • 5. کسی ملک اور وہاں کے عوام کی ترقی کن چیزوں سے ہوسکتی ہے؟[cite: 9]
    کسی ملک اور اس کے عوام کی ترقی علم و ہنر کے حصول، نئی ٹیکنالوجی اور مکینکس کی تعلیم پر توجہ دینے، اور اپنی ضروریات کے لیے خود کفیل ہونے سے ہو سکتی ہے[cite: 9]۔
عملی کام[cite: 9]
  • 1. اس نظم کو بلند آواز سے پڑھیے۔[cite: 9]
    (طلبہ کو نظم بلند آواز سے پڑھنی ہے)
  • 2. نظم کے بند نمبر ایک سے چار تک خوش خط لکھیے ۔[cite: 9]
    (طلبہ نظم کے پہلے چار بند اپنی کاپیوں میں خوش خط لکھیں)
  • 3. نظم کے پہلے بند کا مطلب لکھیے ۔[cite: 9]
    پہلے بند کا مطلب ہے کہ جن لوگوں اور قوموں نے تعلیم کی اہمیت کو نہیں سمجھا، ان پر جہالت کا اندھیرا چھا گیا[cite: 9]۔ تعلیم سے دوری کی وجہ سے بادشاہوں نے اپنی سلطنتیں گنوا دیں، اور امیر گھرانوں پر مفلسی اور بدحالی آ گئی[cite: 9]۔ ان کی خاندانی عزت ختم ہو گئی اور ان کی شرافت کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے[cite: 9]۔
  • 4. درج ذیل الفاظ میں سے واحد کی جمع اور جمع کی واحد بنا کر لکھیے :[cite: 9]
    ملک، سلطان، امیروں، پیشہ وروں ، سوداگروں ، طبیب، منظر، تجار، رسالوں ، فوج[cite: 9]
    • ملک (واحد) - ممالک (جمع)
    • سلطان (واحد) - سلاطین (جمع)
    • امیروں (جمع) - امیر (واحد)
    • پیشہ وروں (جمع) - پیشہ ور (واحد)
    • سوداگروں (جمع) - سوداگر (واحد)
    • طبیب (واحد) - اطباء (جمع)
    • منظر (واحد) - مناظر (جمع)
    • تجار (جمع) - تاجر (واحد)
    • رسالوں (جمع) - رسالہ (واحد)
    • فوج (واحد) - افواج (جمع)
  • 5. تعلیم کے فوائد پر ایک مضمون لکھیے ۔[cite: 9]
    تعلیم انسان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے[cite: 9]۔ یہ شعور بیدار کرتی ہے اور اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے[cite: 9]۔ تعلیم یافتہ قومیں دنیا میں ترقی کرتی ہیں اور ان کے عوام خوشحال زندگی گزارتے ہیں[cite: 9]۔ تعلیم کے ذریعے نئے علوم و فنون ایجاد ہوتے ہیں جس سے ملک معاشی اور سماجی طور پر مضبوط ہوتا ہے[cite: 9]۔ تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم غیروں کی محتاج بن کر رہ جاتی ہے[cite: 9]۔

కామెంట్‌ను పోస్ట్ చేయండి

0 కామెంట్‌లు

Top Post Ad

Bottom Post Ad

Show ad in Posts/Pages