ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح[cite: 8]
-
ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
اُٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
وہ تو کہیں ہے اور ، مگر دل کے آس پاس
پھرتی ہے کوئی شے نگہ یار کی طرح
سیدھی ہے راہ شوق پہ یوں ہی کہیں کہیں
خم ہو گئی ہے گیسوئے دل دار کی طرح
بے تیشہ نظر نہ چلو راه رفتگاں
ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح
اب جا کے کچھ گھلا ہنر ناخن جنوں
زخم جگر ہوئے لب ورخسار کی طرح
مجروح لکھ رہے ہیں وہ اہلِ وفا کا نام
ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح[cite: 8]
مشق: لفظ و معنی[cite: 8]
| لفظ[cite: 8] | معنی[cite: 8] |
|---|---|
| متاع[cite: 8] | سامان، پونجی[cite: 8] |
| کوچہ[cite: 8] | گلی[cite: 8] |
| راہ شوق[cite: 8] | محبت کا راسته[cite: 8] |
| خم[cite: 8] | ٹیڑھ، بل ، پیچ[cite: 8] |
| گیسوئے دلدار[cite: 8] | محبوب کی زلفیں[cite: 8] |
| تیشہ[cite: 8] | کدال ، لہذا بے تیشہ نظر نہ چلو کے معنی ہوئے غور کرنے والی نگاہ کو اس طرح استعمال کرو جس طرح کدال استعمال کی جاتی ہے۔ یعنی پرانے خیالات جو دیوار کی طرح ہیں، انھیں اپنے غور وفکر کی طاقت سے برابر اور ہموار کر دو۔[cite: 8] |
| رفتگاں[cite: 8] | گزرے ہوئے لوگ[cite: 8] |
| نقش پا[cite: 8] | قدموں کے نشان[cite: 8] |
| اہل وفا[cite: 8] | وفا کرنے والے لوگ[cite: 8] |
غور کرنے کی بات[cite: 8]
-
اس غزل کے اشعار میں انسان کی مختلف حیثیتوں کو ظاہر کیا گیا ہے[cite: 8]۔ یہ حیثیتیں ہیں : عاشق ، انقلابی نئی راہیں نکالنے والا[cite: 8]۔
-
مجروح کا شمار اس دور کے اہم ترین غزل گو شعرا میں ہوتا ہے[cite: 8]۔ ان کا تعلق انجمن ترقی پسند مصنفین سے تھا[cite: 8]۔ ان کا کلام پُر اثر ہے اور تصنع سے پاک ہے[cite: 8]۔
سوالوں کے جواب لکھیے[cite: 8]
-
1. راہ شوق سے کیا مراد ہے؟ ایک جملے میں لکھیے ۔[cite: 8]
راہ شوق سے مراد محبت کا راستہ اور اس میں پیش آنے والے مراحل ہیں[cite: 8]۔
-
2. دوسرے شعر میں وہ تو کہیں ہے اور کس کی طرف اشارہ ہے؟[cite: 8]
دوسرے شعر میں "وہ تو کہیں ہے اور" کا اشارہ محبوب کی طرف ہے، جو جسمانی طور پر تو دور ہے لیکن اس کی یاد دل کے آس پاس منڈلاتی رہتی ہے[cite: 8]۔
-
3. غزل کے مقطعے میں شاعر نے کیا بات کہی ہے؟[cite: 8]
مقطعے میں شاعر نے انکساری سے کام لیتے ہوئے کہا ہے کہ جب محفل میں اہل وفا (وفا کرنے والوں) کے نام لکھے جا رہے ہیں تو ہم بھی وہاں ایک گنہگار کی حیثیت سے کھڑے ہیں، باوجویکہ ہم نے محبت میں سب کچھ قربان کر دیا[cite: 8]۔
عملی کام[cite: 8]
-
1. غزل کو بآواز بلند پڑھیے۔[cite: 8]
(طلبہ غزل کو بآواز بلند پڑھیں)
-
2. غزل کے اشعار کو خوش خط لکھیے ۔[cite: 8]
(طلبہ غزل کو اپنی کاپی میں خوش خط لکھیں)
-
3. اس غزل کو زبانی یاد کیجیے۔[cite: 8]
(طلبہ اس غزل کو زبانی یاد کریں)
-
4. غزل میں استعمال کی گئی تشبیہات اور استعارات کی نشاندہی کیجیے۔[cite: 8]
تشبیہات: بازار کی طرح، خریدار کی طرح، نگہ یار کی طرح، گیسوئے دلدار کی طرح، دیوار کی طرح، لب ورخسار کی طرح، گنہ گار کی طرح[cite: 8]۔
استعارات: متاع کوچہ و بازار، تیشہ نظر، نقش پا[cite: 8]۔ -
5. مطلب لکھیے ۔[cite: 8]
ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح[cite: 8]
سیدھی ہے راہ شوق پہ یوں ہی کہیں کہیں
خم ہو گئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح[cite: 8]پہلے شعر کا مطلب: شاعر کہتا ہے کہ ہماری حالت بازار میں رکھے اس سامان (متاع) کی طرح ہو گئی ہے جسے ہر کوئی خریدار کی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے، یعنی ہمیں معاشرے میں کوئی اہمیت اور قدر نہیں دی جا رہی[cite: 8]۔
دوسرے شعر کا مطلب: محبت کا راستہ (راہ شوق) بظاہر تو سیدھا ہے، لیکن اس میں کہیں کہیں محبوب کی زلفوں کی طرح بل اور پیچ (مشکلات اور آزمائشیں) آجاتے ہیں[cite: 8]۔