Type Here to Get Search Results !

9th urdu سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنا بھی نہیں

0
غزل[cite: 7]
سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنا بھی نہیں[cite: 7]
  • سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنا بھی نہیں
    لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں

    ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
    اور ہم بھول گئے ہوں تجھے، ایسا بھی نہیں

    یوں تو ہنگامے اٹھاتے نہیں دیوانہ عشق
    مگر اے دوست، کچھ ایسوں کا ٹھکانا بھی نہیں

    دل کی گنتی نہ بیگانوں میں، نہ یگانوں میں
    لیکن اُس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں

    آج غفلت بھی ان آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا
    آج ہی خاطر بیمار شکیبا بھی نہیں

    ہم اُسے منھ سے بُرا تو نہیں کہتے کہ فراق
    دوست تیرا ہے ، مگر آدمی اچھا بھی نہیں[cite: 7]
مشق: لفظ و معنی[cite: 7]
لفظ[cite: 7] معنی[cite: 7]
سودا[cite: 7] جنون ، دیوانگی[cite: 7]
تمنا[cite: 7] آرزو، خواهش[cite: 7]
ترک کرنا[cite: 7] چھوڑنا[cite: 7]
یگانہ[cite: 7] اس لفظ کے اصل معنی ہیں جس کی کوئی نظیر نہ ہو، واحد لیکن شاعر نے یہاں اسے بیگانہ کی ضد کے طور پر استعمال کیا ہے[cite: 7]
بیگانہ[cite: 7] غیر[cite: 7]
جلوہ گہہ[cite: 7] جلوه، صورت ، یا صورت کی جھلک نظر آنے کی جگہ[cite: 7]
ناز[cite: 7] ادا[cite: 7]
شکیبا[cite: 7] جسے صبر حاصل ہو، جسے صبر آجائے[cite: 7]
خاطر[cite: 7] دل[cite: 7]
رنجش[cite: 7] ناراضگی[cite: 7]
بے جا[cite: 7] نامناسب ، بلا وجہ، بے سبب[cite: 7]
غور کرنے کی بات[cite: 7]
  • فراق کی غزل گوئی منفرد آہنگ و انداز رکھتی ہے[cite: 7]۔
  • فراق کی غزل میں روایت کا پاس بھی ہے اور جدت کا اظہار بھی ہے[cite: 7]۔
  • فراق کے اسلوب میں صفائی اور بے ساختگی ہے جس کی ایک مثال یہ غزل ہے[cite: 7]۔
سوالوں کے جواب لکھیے[cite: 7]
  • 1. مطلعے میں شاعر نے کس کیفیت کا اظہار کیا ہے؟[cite: 7]
    مطلعے میں شاعر نے ایک عجیب کشمکش کی کیفیت کا اظہار کیا ہے کہ اب اس کے سر میں عشق کا جنون بھی نہیں رہا اور دل میں محبوب کی کوئی تمنا بھی نہیں، لیکن پھر بھی وہ دعوے سے نہیں کہہ سکتا کہ اس نے واقعی محبت ترک کر دی ہے، کیونکہ اس بات کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب یہ جذبہ دوبارہ جاگ اٹھے[cite: 7]۔
  • 2. خاطر بیمار سے شاعر کی کیا مراد ہے؟[cite: 7]
    خاطر بیمار سے شاعر کی مراد اپنا بیمار اور دکھی دل ہے جو محبوب کی جدائی اور بے اعتنائی کے باعث بے چین ہے[cite: 7]۔
  • 3. غزل کے تیسرے شعر میں محبت کرنے والے کی کسی نفسیاتی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے؟[cite: 7]
    تیسرے شعر میں محبت کرنے والے کی اس کیفیت کو بیان کیا گیا ہے کہ عاشق عموماً خاموش رہتا ہے اور ہنگامے کھڑے نہیں کرتا، لیکن اس کی دیوانگی کا کوئی ٹھکانہ یا حد بھی نہیں ہوتی۔ وہ بظاہر پرسکون نظر آتا ہے لیکن اندر ہی اندر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے[cite: 7]۔
  • 4. جلوہ گہہ ناز سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟[cite: 7]
    جلوہ گہہ ناز سے مراد محبوب کی محفل یا وہ جگہ ہے جہاں محبوب اپنے حسن اور اداؤں کے جلوے دکھاتا ہے[cite: 7]۔
عملی کام[cite: 7]
  • 1. استاد کی مدد سے شعروں کی صحیح قرآت کیجیے۔[cite: 7]
    (طلبہ استاد کی مدد سے غزل کی قرآت کریں)
  • 2. غزل کے اشعار خوش خط لکھیے ۔[cite: 7]
    (طلبہ غزل کو اپنی کاپیوں میں خوش خط لکھیں)
  • 3. ذیل میں دیے گئے اشعار کو مکمل کیجیے :[cite: 7]
    دل کی گنتی نہ بیگانوں میں ، نہ یگانوں میں
    لیکن اُس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں

    آج غفلت بھی ان آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا
    آج ہی خاطر بیمار شکیبا بھی نہیں[cite: 7]

కామెంట్‌ను పోస్ట్ చేయండి

0 కామెంట్‌లు

Top Post Ad

Bottom Post Ad

Show ad in Posts/Pages