Type Here to Get Search Results !

9th urdu روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام

0
غزل[cite: 6]
روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام[cite: 6]
  • روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام
    دہکا ہوا ہے آتشِ گل سے چمن تمام

    حیرت غرور حسن سے ، شوخی سے اضطراب
    دل نے بھی، تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام

    دیکھو تو چشم یار کی جادو نگاہیاں
    بے ہوش اک نظر میں ہوئی انجمن تمام

    نشو و نمائے سبزہ و گل سے بہار میں
    شادابیوں نے گھیر لیا ہے چمن تمام

    اچھا ہے اہلِ جو ر کیے جائیں سختیاں
    پھیلے گی یونہی شورش حُبّ وطن تمام

    سمجھے ہیں اہل مشرق کو شاید قریب مرگ
    مغرب کے یوں ہیں جمع یہ زاغ ورغن تمام

    شیرینی نسیم ہے سوز و گداز میر
    حسرت ترے سخن پہ ہے لطف سخن تمام[cite: 6]
مشق: لفظ و معنی[cite: 6]
لفظ[cite: 6] معنی[cite: 6]
انجمن[cite: 6] محفل[cite: 6]
چلن[cite: 6] طریقہ ، ڈھنگ[cite: 6]
اضطراب[cite: 6] بے چینی[cite: 6]
نشوونما[cite: 6] پھلنا پھولنا ، فروغ پانا[cite: 6]
اہل جور[cite: 6] ظلم کرنے والے[cite: 6]
شورش[cite: 6] ہنگامہ ، شور[cite: 6]
زاغ[cite: 6] کوا[cite: 6]
زغن[cite: 6] چیل[cite: 6]
غور کرنے کی بات[cite: 6]
  • حسرت کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیت سادگی ہے[cite: 6]۔ ان کی زندگی جتنی سخت کوشی میں گزری ان کی شاعری اسی قدر نشاط انگیز ہے[cite: 6]۔
  • مقطعے میں نشیم سے مراد نواب اصغر علی خاں نسیم دہلوی ہیں جو کہ حسرت موہانی کے استاد نشی امیر اللہ تسلیم کے استاد تھے[cite: 6]۔ وہ جس طرح نسیم کی شیرینی کے قائل تھے اسی طرح میر کے سوز و گداز کے بھی معترف تھے[cite: 6]۔ شیرینی سے مراد زبان کی صفائی اور اس کا با محاورہ اور سلیس ہونا ہے[cite: 6]۔
سوالوں کے جواب لکھیے[cite: 6]
  • 1. دہ کا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام اس مصرعے میں آتش گل سے کیا مراد ہے؟[cite: 6]
    آتشِ گل سے مراد پھولوں کی سرخی اور ان کی چمک دمک ہے جو پورے باغ کو دہکا ہوا اور روشن کر دیتی ہے[cite: 6]۔
  • 2. اہل جور سے شاعر کا کیا مطلب ہے؟[cite: 6]
    اہل جور سے شاعر کا مطلب ظلم کرنے والے حکمران (انگریز) ہیں جو اہل وطن پر سختیاں اور ظلم کرتے ہیں[cite: 6]۔
  • 3. غزل کے کس شعر میں تعلی کا اظہار کیا گیا ہے؟[cite: 6]
    اس غزل کے مقطعے میں شاعر نے تعلی کا اظہار کیا ہے: شیرینی نسیم ہے سوز و گداز میر / حسرت ترے سخن پہ ہے لطف سخن تمام[cite: 6]۔
  • 4. شاعر کے خیال میں وطن سے محبت کا شور کن وجوہ سے پھیل رہا ہے؟[cite: 6]
    شاعر کے خیال میں وطن سے محبت کا شور اور جذبہ اہل جور (انگریزوں) کے ظلم اور سختیوں کی وجہ سے پھیل رہا ہے، کیونکہ جتنا ظلم بڑھتا ہے اتنی ہی حب الوطنی میں اضافہ ہوتا ہے[cite: 6]۔
عملی کام[cite: 6]
  • 1. غزل کی بلند خوانی کیجیے۔[cite: 6]
    (طلبہ غزل کو بلند آواز میں پڑھیں)
  • 2. پسندیدہ اشعار یاد کیجیے۔[cite: 6]
    (طلبہ اپنی پسند کے اشعار زبانی یاد کریں)
  • 3. غزل کے اشعار کو خوش خط لکھیے ۔[cite: 6]
    (طلبہ غزل کو اپنی کاپیوں میں خوش خط لکھیں)
  • 4. اس غزل کے قافیوں کی نشاندہی کیجیے اور ان سے ملتے جلتے تین اور قافیے لکھیے ۔[cite: 6]
    اس غزل کے قافیے ہیں: انجمن، چمن، چلن، وطن، رغن، سخن[cite: 6]۔
    تین مزید قافیے: بدن، کفن، لگن۔
  • 5. اشعار میں مختلف جگہوں پر اضافت کا استعمال ہوا ہے، ایسے الفاظ تلاش کر کے لکھیے ۔[cite: 6]
    اضافت والے الفاظ: جمالِ یار، آتشِ گل، چشمِ یار، قریبِ مرگ[cite: 6]۔
  • 6. جن اشعار میں حرف عطف کا استعمال ہوا ہے ان شعروں کی نشاندہی کیجیے۔[cite: 6]
    نشو و نمائے سبزہ و گل سے بہار میں (و عطف ہے)
    مغرب کے یوں ہیں جمع یہ زاغ و زغن تمام (و عطف ہے)[cite: 6]
  • 7. مقطعے میں جن تین شعرا کے تخلص آئے ہیں ان کے پورے نام لکھیے ۔[cite: 6]
    نسیم: اصغر علی خاں نسیم دہلوی[cite: 6]
    میر: میر تقی میر[cite: 6]
    حسرت: سید فضل الحسن حسرت موہانی[cite: 6]

కామెంట్‌ను పోస్ట్ చేయండి

0 కామెంట్‌లు

Top Post Ad

Bottom Post Ad

Show ad in Posts/Pages