درد منت کش دوا نہ ہوا[cite: 5]
-
درد منت کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا[cite: 5]
مشق: لفظ و معنی[cite: 5]
| لفظ[cite: 5] | معنی[cite: 5] |
|---|---|
| منت کش[cite: 5] | احسان اُٹھانے والا[cite: 5] |
| رقیب[cite: 5] | حریف ، عاشق کا مقابل اور مخالف[cite: 5] |
| گلا[cite: 5] | شکایت[cite: 5] |
| مزا[cite: 5] | مزه[cite: 5] |
| خبر گرم[cite: 5] | کسی خبر کا بہت مشہور ہونا[cite: 5] |
| خنجر آزما[cite: 5] | خنجر چلانے والا[cite: 5] |
| نمرود[cite: 5] | ملک عراق میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کے ایک بادشاہ کا نام جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا[cite: 5]۔ |
| بندگی[cite: 5] | فرماں برداری، اطاعت[cite: 5] |
| غزل سرا ہونا[cite: 5] | غزل گانا یعنی غزل کو محفل میں پیش کرنا[cite: 5] |
غور کرنے کی بات[cite: 5]
-
اس غزل میں سادگی بیان اور عام گفتگو کا انداز ہے اور کہیں کہیں خود کلامی کا انداز بھی ہے[cite: 5]۔ خود کلامی سے مراد اپنے آپ سے بات کرنا ہے[cite: 5]۔ مثلاً غزل کے مطلعے اور شعر 6،5 اور 7 میں خود کلامی کا انداز ہے[cite: 5]۔
-
غالب غزل کے ممتاز شاعر ہیں ، کم سے کم لفظوں میں بات کو کہنا ، سادگی کے ساتھ ساتھ معنی کی گہرائی ان کی شاعری کی اہم خصوصیات ہیں[cite: 5]۔
-
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا اس مصرعے میں لفظ حق دو جگہ آیا ہے[cite: 5]۔ اس لفظ کے دونوں جگہ الگ الگ معنی ہیں ۔ ایک حق ہونا ( سچ ) اور دوسرا حق ادا ہونا (فرض )[cite: 5]
-
مطلع کو غور سے پڑھیے[cite: 5]۔ دوسرے مصرعے میں لفظ اچھا یوں تو برا کی ضد ہے لیکن یہاں یہ لفظ صحت یاب ہونے کے معنی میں آیا ہے[cite: 5]۔ اس اعتبار سے اچھا، برا اور ہوا، نہ ہوا الفاظ ایک دوسرے کی ضد ہیں[cite: 5]۔ شعر کی یہ خوبی صنعت تضاد کہلاتی ہے[cite: 5]۔
سوالوں کے جواب لکھیے[cite: 5]
-
1. د میں نہ اچھا ہوا، برانہ ہوا سے شاعر کی کیا مراد ہے؟[cite: 5]
اس سے شاعر کی مراد یہ ہے کہ میری بیماری (عشق کی بیماری) میں مجھے دوا سے کوئی شفا نہیں ملی، اور میں اچھا نہیں ہوا، لیکن یہ میرے لیے برا بھی نہیں ہوا، کیونکہ میرا درد دوا کا احسان مند نہیں ہوا[cite: 5]۔
-
2. شاعر نے رقیبوں کو جمع کرنے پر کیوں اعتراض کیا ہے؟[cite: 5]
شاعر نے رقیبوں کو جمع کرنے پر اس لیے اعتراض کیا ہے کیونکہ ان کی موجودگی میں شکایت گلہ نہیں رہتی بلکہ تماشا بن جاتی ہے، جسے سب دیکھتے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں[cite: 5]۔
-
3. پانچویں شعر میں نمرود کی خدائی سے کیا مراد ہے؟[cite: 5]
نمرود کی خدائی سے مراد ایسا ظالم اور جابر شخص یا ایسی صورتحال ہے جس میں فرماں برداری (بندگی) کرنے پر بھی کوئی فائدہ نہ ہو، جیسے محبوب کی بندگی میں شاعر کا کوئی بھلا نہیں ہوا[cite: 5]۔
-
4. جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی اس مصرعے میں اُسی کا اشارہ کس کی طرف ہے؟[cite: 5]
اس مصرعے میں 'اُسی' کا اشارہ اللہ تعالیٰ (خدا) کی طرف ہے، کہ یہ جان اسی کی دی ہوئی تھی اور ہم نے اسی کو لوٹا دی[cite: 5]۔
عملی کام[cite: 5]
-
1. غزل کے اشعار بلند آواز میں پڑھیے اور اپنے دوست سے پسندیدہ غزل کے دو اشعار سنیے۔[cite: 5]
(یہ کام طلبہ کو آپس میں سرگرمی کے طور پر کرنا ہے)
-
2. غزل کو خوشخط لکھیے اور زبانی یاد کیجیے۔[cite: 5]
(طلبہ غزل کو اپنی کاپی میں خوشخط لکھیں اور اسے زبانی یاد کریں)
-
3. اس غزل میں کیا کیا قافیے استعمال ہوئے ہیں لکھیے ۔[cite: 5]
اس غزل میں درج ذیل قافیے استعمال ہوئے ہیں: دوا، برا، گلا، مزا، بوریا، بھلا، ادا، سرا[cite: 5]