Type Here to Get Search Results !

9th urdu اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

0
غزل[cite: 4]
اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا[cite: 4]
  • اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
    لوہو آتا ہے، جب نہیں آتا

    ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
    جب وہ آتا ہے، تب نہیں آتا

    صبر تھا ایک مونس ہجراں
    سو وہ مدت سے اب نہیں آتا

    دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش
    گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا

    جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم
    پر سخن تا بہ لب نہیں آتا

    دور بیٹھا غبار میر اس سے
    عشق بن یہ ادب نہیں آتا[cite: 4]
مشق: لفظ و معنی[cite: 4]
لفظ[cite: 4] معنی[cite: 4]
اشک[cite: 4] آنسو[cite: 4]
وہ[cite: 4] یہاں بمعنی محبوب[cite: 4]
لوہو[cite: 4] (لہو) خون[cite: 4]
مونس[cite: 4] دوست ، دل کو تسلی دینے والا[cite: 4]
ہجراں[cite: 4] جدائی[cite: 4]
گریہ[cite: 4] آنسو[cite: 4]
ہمدم[cite: 4] ساتھی[cite: 4]
سخن[cite: 4] بات[cite: 4]
غبار میر[cite: 4] میر کی خاک (یعنی مرکز خاک ہو جانے کے بعد میر کا جسم غبار بن کر ہوا میں اُڑ رہا ہے )[cite: 4]
غور کرنے کی بات[cite: 4]
  • میر کی شاعری فکر، اسلوب اور فن کے لحاظ سے منفر د درجہ رکھتی ہے[cite: 4]۔ میر اپنے اشعار میں سہل اور سادہ زبان استعمال کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی ایسے الفاظ ان کی شاعری میں آجاتے ہیں جواب متروک ہیں[cite: 4]۔
  • میر کے کلام میں بیان کی سادگی کے باوجود سوز و گداز اور اثر آفرینی ہے[cite: 4]۔
  • یہ غزل چھوٹی بحر میں ہے اور میر کی سادگی بیان کا بہترین نمونہ ہے[cite: 4]۔ یہ سہلِ ممتنع ہے اور سہل ممتنع اس کلام کو کہتے ہیں جو بظاہر بہت آسان معلوم ہو لیکن جب اس کا جواب ( یعنی اس کی طرح کا کلام ) لکھنے بیٹھیں تو جواب ممکن نہ ہو سکے[cite: 4]۔
سوالوں کے جواب لکھیے[cite: 4]
  • 1. پہلے شعر میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟[cite: 4]
    پہلے شعر میں شاعر کہنا چاہتا ہے کہ میری آنکھوں میں ہمیشہ آنسو رہتے ہیں اور جب آنسو نہیں آتے تو میری آنکھوں سے خون کے آنسو (لہو) بہنے لگتے ہیں، یعنی میرا غم اس قدر زیادہ ہے کہ آنکھوں سے آنسو رکتے ہی نہیں[cite: 4]۔
  • 2. شاعر نے گریہ آنے کا کیا سبب بتایا ہے؟[cite: 4]
    شاعر نے گریہ (رونے) کا سبب یہ بتایا ہے کہ دل سے کوئی خواہش رخصت ہو گئی ہے یعنی ختم ہو گئی ہے، اور کسی خواہش کے ٹوٹنے یا ختم ہونے پر ہی بے سبب رونا آتا ہے[cite: 4]۔
  • 3. اس غزل کے مقطعے کا مطلب اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔[cite: 4]
    اس غزل کے مقطعے میں میر تقی میر کہتے ہیں کہ میر کا غبار (یعنی مرنے کے بعد اس کی راکھ) بھی محبوب کے سامنے دور اور ادب سے بیٹھا ہے، اور محبوب کا اتنا ادب اور احترام صرف سچے عشق کے بغیر نہیں آسکتا[cite: 4]۔
عملی کام[cite: 4]
  • 1. استاد کی مدد سے غزل کو صحیح تلفظ اور مناسب ادائیگی سے پڑھیے۔[cite: 4]
    (یہ طلبہ کے لیے کمرۂ جماعت کی سرگرمی ہے)
  • 2. اس غزل کو خوشخط لکھیے ۔[cite: 4]
    (طلبہ غزل کو اپنی کاپی میں خوشخط لکھیں)
  • 3. اس غزل میں کون کون سے قافیے استعمال ہوئے ہیں لکھیے ۔[cite: 4]
    اس غزل میں درج ذیل قافیے استعمال ہوئے ہیں: کب، جب، تب، اب، سبب، لب، ادب

కామెంట్‌ను పోస్ట్ చేయండి

0 కామెంట్‌లు

Top Post Ad

Bottom Post Ad

Show ad in Posts/Pages