مفلسی سب بہار کھوتی ہے[cite: 3]
-
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
کیوں کہ حاصل ہو مج کوں جمعیت
زلف تیری قرار کھوتی ہے
ہر سحر شوخ کی نگہ کی شراب
مج انکھاں کا خمار کھوتی ہے
کیوں کے ملنا صنم کا ترک کروں
دلبری اختیار کھوتی ہے
اے ولی آب اس پری رو کی
مج سنے کا غبار کھوتی ہے[cite: 3]
مشق: لفظ و معنی[cite: 3]
| لفظ[cite: 3] | معنی[cite: 3] |
|---|---|
| مفلسی[cite: 3] | غریبی[cite: 3] |
| کھونا[cite: 3] | گم کرنا، لے جانا، ختم کر دینا[cite: 3] |
| جمعیت[cite: 3] | سکون ٹھہراؤ[cite: 3] |
| انکھاں[cite: 3] | آنکھیں[cite: 3] |
| خمار[cite: 3] | پیاس یعنی شراب کی طلب، لیکن اسے بہت سے لوگ نشہ کے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہاں دونوں معنی صحیح ہو سکتے ہیں[cite: 3]۔ |
| صنم[cite: 3] | محبوب ( اصل معنی بت )[cite: 3] |
| کیوں کے[cite: 3] | کیوں کر[cite: 3] |
| آب[cite: 3] | چمک، پانی۔ یہاں چمک کے معنی میں ہے[cite: 3]۔ |
| دلبری[cite: 3] | محبوبیت[cite: 3] |
| مج[cite: 3] | میرے، میرا[cite: 3] |
| پری رو[cite: 3] | پری چہرہ ( خوبصورت چہرے والا )[cite: 3] |
| سنے[cite: 3] | سینہ[cite: 3] |
| غبار[cite: 3] | رنجیدگی ، نا خوشی[cite: 3] |
غور کرنے کی بات[cite: 3]
-
غزل میں بہت سے الفاظ ایسے آئے ہیں جو اب نہیں بولے جاتے ۔ جیسے مج کوں ( مجھ کو )، انکھاں ( آنکھیں ) ، سنے (سینہ ) کوں ( کو ) مج ، مجھ بمعنی میرا، میرے[cite: 3]
-
اس غزل کے آخری شعر میں ایک لفظ آب آیا ہے۔ یہاں اس کے معنی چمک کے ہیں لیکن آب پانی کو بھی کہتے ہیں[cite: 3]۔
سوالوں کے جواب لکھیے[cite: 3]
-
1. مرد کا اعتبار کھونے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟[cite: 3]
مرد کا اعتبار کھونے سے شاعر کی مراد یہ ہے کہ مفلسی اور غریبی انسان کی عزت و وقار اور لوگوں کی نظروں میں اس کی اہمیت ختم کر دیتی ہے[cite: 3]۔
-
2. کون سی چیز شاعر کے سینے کا غبار کھو رہی ہے؟[cite: 3]
اس پری رو (محبوب) کی چمک یعنی اس کے حسن کی آب و تاب شاعر کے سینے کی رنجیدگی اور غبار کھو رہی ہے[cite: 3]۔
-
3. شاعر صنم سے ملنا کیوں نہیں ترک کر پاتا ہے؟[cite: 3]
کیونکہ محبوب کی دلبری اور کشش شاعر سے اس کا اختیار چھین لیتی ہے اور وہ محبوب سے ملے بغیر نہیں رہ سکتا[cite: 3]۔
عملی کام[cite: 3]
-
1. اس غزل کو بلند آواز سے پڑھیے اور زبانی یاد کیجیے۔[cite: 3]
(یہ کام طلبہ کو زبانی کرنا ہے)
-
2. نیچے دیے گئے الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے : مفلسی ، بہار، اعتبار سحر، اختیار، غبار[cite: 3]
- مفلسی: مفلسی انسان کی سب بہار کھوتی ہے[cite: 3]۔
- بہار: باغ میں پھول کھلنے سے بہار آ گئی ہے۔
- اعتبار: جھوٹ بولنے سے انسان کا اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔
- سحر: ہر سحر محبوب کی یاد ستاتی ہے[cite: 3]۔
- اختیار: سچے عشق میں انسان کا خود پر اختیار نہیں رہتا[cite: 3]۔
- غبار: بارش کے بعد ہوا کا غبار صاف ہو گیا۔
-
3. کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو لکھنے میں ایک جیسے نہیں ہوتے اور ان کو پڑھنے میں معمولی سا فرق ہوتا ہے۔ جیسے نذر نظر ، نذیر نظیر، اثر ار۔ اصرار، الم - علم ، عقل - أقل ۔ آپ اپنے استاد سے ان الفاظ کا فرق معلوم کر کے لکھیے ۔[cite: 3]
- نذر (بھینٹ) - نظر (نگاہ): میں نے درگاہ پر نذر پیش کی۔ / اس کی نظر بہت تیز ہے۔
- نذیر (ڈرانے والا) - نظیر (مثال): قرآن مجید بشیر اور نذیر ہے۔ / غالب کی شاعری کی کوئی نظیر نہیں۔
- اثر (تاثیر) - اصرار (ضد): دوا کا اثر جلدی ہوتا ہے۔ / اس نے مجھ سے چلنے کے لیے بہت اصرار کیا۔
- الم (دکھ) - علم (جھنڈا): امام حسینؓ کے الم میں مجلس ہوئی۔ / فوج کا علم لہرا رہا ہے۔
- عقل (سمجھ) - اقل (سب سے کم): انسان کو عقل سے کام لینا چاہیے۔ / یہ اقل ترین مقدار ہے۔
-
4. غزل کے دوسرے شعر میں ایک لفظ حاصل آیا ہے اگر ہم اس کے شروع میں ل + ا ( لا ) لگا دیں تو اس کے معنی ہی بدل جائیں گے اور یہ لفظ بن جائے گا لا حاصل، یعنی جس سے کچھ حاصل نہ ہو۔ آپ اسی طرح ( لا ) لگا کر پانچ الفاظ لکھیے ۔[cite: 3]
- لا جواب
- لا علاج
- لا پرواہ
- لا وارث
- لا زوال