Type Here to Get Search Results !

AP 9th Urdu Textbook solutions 6. نذیر احمد (Nazeer Ahmad) 2026-27

0
خدا حافظ
لفظ و معنی[cite: 2]
لفظ[cite: 2] معنی[cite: 2]
عذر[cite: 2] بہانہ کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی جو وجہ بیان کی جائے ( جو جھوٹی بھی ہوسکتی ہے) اسے عذر کہتے ہیں[cite: 2]۔
تبادلہ خیال[cite: 2] کسی موضوع پر دو یا زیادہ اشخاص کی باہمی گفتگو[cite: 2]
خاندانی وضع[cite: 2] خاندانی طور طریقے[cite: 2]
سیاحت[cite: 2] ملکوں کی سیر[cite: 2]
چشم براہ[cite: 2] بہت شدید انتظار کرنے والا[cite: 2]
مضائقہ[cite: 2] حرج ، قباحت[cite: 2]
طوالت[cite: 2] لمبائی ، ( محاورتاً مشکل )[cite: 2]
غریب خانہ[cite: 2] انکسار کے ساتھ اپنے گھر کے لیے کہا جاتا ہے[cite: 2]۔
امام ضامن[cite: 2] وہ روپیہ یا سکہ جو مسافر کے بازو پر حفاظت سے پہنچنے کے خیال سے امام ضامن (امام موسیٰ رضا ) کے نام پر باندھا جاتا ہے اور سفر ختم ہونے پر اسے خیرات کر دیا جاتا ہے[cite: 2]۔
محصول[cite: 2] ٹیکس لگان[cite: 2]
ملتوی کرنا[cite: 2] کسی کام کو جس وقت ہونا ہے اس وقت اسے نہ کرنے کا فیصلہ کرنا[cite: 2]
لہولہان[cite: 2] خون میں لتھڑا ہوا[cite: 2]
مہمل[cite: 2] بے معنی[cite: 2]
ناقص[cite: 2] کھوٹا، عیب دار[cite: 2]
رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت[cite: 2] ( فارسی ) ایک مصیبت آئی تھی لیکن خیریت کے ساتھ ٹل گئی[cite: 2]
غور کرنے کی بات[cite: 2]
  • شوکت تھانوی روزمرہ کی باتوں کو بڑی خوبی سے بیان کرتے ہیں اور اس میں ایسے دلچسپ نکتے پیدا کرتے ہیں کہ قاری بغیر ہنسے نہیں رہ سکتا[cite: 2]۔ خدا حافظ ڈراما اس کی بہترین مثال ہے[cite: 2]۔ اس میں زوال آمادہ تہذیب اور نوابین کی معاشرتی زندگی کی ایک جھلک پیش کی گئی ہے[cite: 2]۔
  • اس ڈرامے میں کچھ تو ہمات کا ذکر کیا گیا ہے جس کا شکار عام انسان آج بھی ہے جیسے سفر میں جانے سے پہلے اگر چھینک آجائے یا بلی راستہ کاٹ جائے تو اسے بُرا شگون سمجھا جاتا ہے[cite: 2]۔ لکھنوی تہذیب کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ سفر پر جانے سے پہلے امام ضامن باندھتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کو خدا کی حفاظت میں دیا[cite: 2]۔ اسی طرح سفر پر جانے سے پہلے دہی چکھنا بھی اچھی علامت سمجھا جاتا ہے[cite: 2]۔ اس کے علاوہ صراحی یا کسی برتن کے ٹوٹ جانے کو بھی اچھا سمجھا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کوئی بلا ٹل گئی[cite: 2]۔
سوالوں کے جواب لکھیے[cite: 2]
  • 1. میر صاحب سفر سے پہلے کیوں گھبرا رہے تھے؟[cite: 2]
    میر صاحب اس لیے گھبرا رہے تھے کیونکہ ریل کے سفر کا یہ ان کا پہلا اتفاق تھا اور انہیں اس کا بالکل تجربہ نہیں تھا[cite: 2]۔
  • 2. وہ اپنے ساتھ سفر میں کیا کیا سامان لے جا رہے تھے؟[cite: 2]
    وہ اپنے ساتھ بستر، تکیے، لحاف، مچھر دانی، قالین، گاؤ تکیہ، کپڑوں کے بکس، لوٹے، طشت، صابن دانی، چائے کے برتن، انگیٹھی، ناشتہ دان اور بٹیروں کا کابک وغیرہ لے جا رہے تھے[cite: 2]۔
  • 3. میر صاحب نے اپنا سفر کیوں ملتوی کر دیا ؟[cite: 2]
    میر صاحب نے اپنا سفر اس لیے ملتوی کر دیا کیونکہ سفر پر نکلتے وقت بلی راستہ کاٹ گئی تھی جسے وہ ایک برا شگون اور منحوس سمجھتے تھے[cite: 2]۔
  • 4. میر صاحب کا کردار آپ کو کیسا لگا ؟ مختصراً بیان کیجیے۔[cite: 2]
    میر صاحب کا کردار ایک وہمی اور پرانے خیالات کے انسان کا ہے جو معمولی باتوں، چھینک اور بلی کے راستہ کاٹنے جیسی بدشگونیوں پر یقین رکھتا ہے اور خاندانی وضع کو سختی سے اپناتا ہے[cite: 2]۔
عملی کام[cite: 2]
  • 1. اپنے ساتھیوں کی مدد سے ڈرامے کے مکالموں کو ڈرامائی انداز میں پڑھیے۔[cite: 2]
    (یہ طلبہ کے لیے کمرۂ جماعت کی سرگرمی ہے، اسے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انجام دیں)
  • 2. جو کردار آپ کو پسند آیا ہو اس سے متعلق چند مکالمے خوشخط لکھیے ۔[cite: 2]
    (طلبہ ڈرامے میں سے اپنے پسندیدہ کردار مثلاً میر صاحب یا مرزا صاحب کے مکالمے اپنی کاپی میں تحریر کریں)
  • 3. نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے : سر کے بال سفید کرنا، کلیجہ ہاتھوں اُچھلنا ، ہوا سے باتیں کرنا ، ڈٹے رہنا، ہاتھ پیر پھولنا، الٹے پیروں واپس آنا ، ہوا کے گھوڑے پر سوار ہونا ، کھٹائی میں پڑنا[cite: 2]
    • سر کے بال سفید کرنا: مرزا صاحب نے ریل کے سفر میں سر کے بال سفید کر لیے ہیں[cite: 2]۔
    • کلیجہ ہاتھوں اُچھلنا: ریل کے سفر کے خوف سے میر صاحب کا کلیجہ ہاتھوں اچھلنے لگا[cite: 2]۔
    • ہوا سے باتیں کرنا: ریل گاڑی ہوا سے باتیں کرتی ہے[cite: 2]۔
    • ڈٹے رہنا: مصیبت میں بھی اپنی بات پر ڈٹے رہنا چاہیے۔
    • ہاتھ پیر پھولنا: جلدی اور گھبراہٹ میں انسان کے ہاتھ پیر پھول جاتے ہیں[cite: 2]۔
    • الٹے پیروں واپس آنا: وہ گھر گیا اور فوراً الٹے پیروں واپس آگیا[cite: 2]۔
    • ہوا کے گھوڑے پر سوار ہونا: میر صاحب کے احباب ہمیشہ ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں[cite: 2]۔
    • کھٹائی میں پڑنا: سفر ملتوی ہونے سے میر صاحب کا جائداد کا مقدمہ کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ تھا[cite: 2]۔
  • 4. نیچے لکھے ہوئے الفاظ کن موقعوں پر استعمال ہوتے ہیں: الا اللہ ، بسم اللہ، نصیب دشمناں[cite: 2]
    • الا اللہ: حیرت، پریشانی یا اللہ کی پناہ مانگنے کے موقع پر استعمال ہوتا ہے[cite: 2]۔
    • بسم اللہ: کسی کام کی شروعات کرنے یا اجازت دینے کے موقع پر استعمال ہوتا ہے[cite: 2]۔
    • نصیب دشمناں: کسی بری بات، نقصان یا آفت کا ذکر کرتے وقت استعمال ہوتا ہے تاکہ وہ دشمنوں کے حصے میں آئے[cite: 2]۔
  • 5. اس ڈرامے میں کچھ تابع مہمل الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ تابع مہمل وہ بے معنی لفظ ہوتے ہیں جو با معنی الفاظ کے ساتھ بطور تاکید یا ربط بولے جائیں۔ جیسے بانس کے ساتھ وانس، یہاں وانس، مہمل ہے آپ اس طرح کے کچھ الفاظ سوچ کر لکھیے ۔[cite: 2]
    چند مزید تابع مہمل الفاظ:
    • بیٹھنے ویٹھنے[cite: 2]
    • روٹی ووٹی
    • چائے وائے
    • جھوٹ موٹ
    • پانی وانی

కామెంట్‌ను పోస్ట్ చేయండి

0 కామెంట్‌లు

Top Post Ad

Bottom Post Ad

Show ad in Posts/Pages